تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ تحریک تحفظِ آئین پاکستان کا قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا، اپوزیشن اتحاد نے سیاسی و معاشی بحران کے خاتمہ کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اپوزیشن اتحاد کے اعلامیے کے مطابق 27 ستمبر کا لانگ مارچ پرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد ہوگی، 27 ستمبر عوامی قوت کے بل بوتے پر عوام کا حقِ حکمرانی واپس لیا جائے گا، تمام جمہوری سیاسی قوتیں ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ مہنگائی، بے روزگاری، پیٹرول کی قیمتیں، امن و امان 27 ستمبر کے احتجاج کے بنیادی ایجنڈے میں شامل ہیں۔
اعلامیےکے مطابق اپوزیشن اتحاد نے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطوں کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں، بلوچستان و خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور مجوزہ 28 ویں ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام پر مشاورت کی گئی۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ غیر نمائندہ حکومت صوبوں کو توڑنے یا محض انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتی، ایسی تجاویز فیڈریشن ، قومی وحدتوں اور وفاقی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ہیں، صوبوں کو اُن کے آئینی حق سے کسی ریفرینڈم یا کسی اور صورت میں قطاً محروم نہیں کیا جا سکتا، اجلاس نے خصوصاً سندھ کی موجودہ جغرافیائی و انتظامی حیثیت برقرار رکھنے پر زور دیا۔
اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے براہِ راست ملاقات اور ان کی صحت سے متعلق درست معلومات کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا، تحریک انصاف کے کارکنان کےگھروں پر چھاپے، گرفتاریاں، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کی مذمت کی گئی۔ سہیل آفریدی کے دورہ پنجاب کے دوران روا رکھے گئے رویے کی مذمت کرتے ہیں۔
اعلامیہ کے مطابق بارڈر تجارت فوری بحال کرنے، مائنز اینڈ منرل ایکٹ کو مسترد کرنے پر اتفاق کیا گیا ، قدرتی وسائل سے متعلق فیصلوں میں متعلقہ صوبوں اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس میں ملکی سیاست، مشرق وسطیٰ میں جاری بحران اور اُس کے پاکستان پر اثرات پر گفتگو کی گئی۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے مؤثر سفارتی و ثالثی کردار کی حمایت کی گئی۔


