کوپن ہیگن: ڈنمارک کے وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق گرین لینڈ، ڈنمارک اور امریکہ آرکٹک اور شمالی بحرِ اوقیانوس میں سلامتی مضبوط بنانے کے معاہدے پر اگلے ہفتے دستخط کی توقع رکھتے ہیں۔ دستخط اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں متوقع ہیں۔
معاہدہ دستخط کے فوراً بعد نافذ نہیں ہوگا، اس کے لیے پہلے متعلقہ پارلیمانی کارروائی مکمل کرنا ہوگی۔
گرین لینڈ کی حکومت کے سربراہ جینس فریڈرک نیلسن نے پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرین لینڈ، مملکتِ ڈنمارک، امریکہ اور مغربی اتحاد کی سلامتی کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔ ان کے مطابق معاہدہ گرین لینڈ کے مفادات اور بین الاقوامی تعاون میں اس کے مقام کو تسلیم کرتا ہے۔
ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے بھی ایک "اچھے معاہدے” کے امکان پر اطمینان ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خطے میں مشترکہ سلامتی کو مضبوط کرے گا اور نیٹو اور یورپ کے لیے بھی اہم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خود اختیاری کو بھی تسلیم کرتا ہے۔
گرین لینڈ ڈنمارک کی مملکت کا خود مختار علاقہ ہے، اور حالیہ برسوں میں اس کی سلامتی اور مستقبل کی حیثیت پر عالمی توجہ بڑھی ہے۔ آرکٹک میں بدلتے موسم کے باعث سمندری راستوں، وسائل اور دفاعی سرگرمیوں میں دلچسپی بھی بڑھی ہے۔

