اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ اٹلی سکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی عائد کرے گا اور ہر جماعت میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد کو محدود کیا جائے گا۔
اٹلی تارکینِ وطن کی آمد کے حوالے سے اگلی صف کے ممالک میں شامل ہے۔
آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات سے پہلے پناہ گزینوں اور مقامی معاشرے میں ان کے انضمام کا معاملہ انتخابی مہم کا ایک بڑا موضوع بنا ہوا ہے۔
میلونی نے اپنی جماعت ’برادرز آف اٹلی‘ کی نوجوانوں کی تنظیم کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’کابینہ کے ایک اجلاس میں جلد ایک اقدام پیش کیا جائے گا تاکہ ہر جماعت میں غیر ملکی طلبہ کی زیادہ سے زیادہ تعداد قانونی طور پر طے کی جا سکے۔‘
وزیراعظم نے اس مجوزہ اقدام کے دیگر نکات کا بھی ذکر کیا اور کہا ’اس کے تحت ایسے غیر ملکی طلبہ کے والدین کے لیے، جنھیں تعلیمی نظام میں ضم ہونے میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے، اطالوی زبان سیکھنا بھی لازمی ہو گا اور سکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی عائد کی جائے گی۔‘
سکولوں میں برقع کے استعمال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ جولائی میں ’نیشنل فیوچر‘ نامی جماعت نے کیا تھا۔
یہ جماعت حکمران اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔ اس کا جھکاؤ میلونی کی جماعت سے بھی زیادہ دائیں بازو کی جانب ہے اور فروری میں قیام کے بعد سے رائے عامہ کے جائزوں میں اس کی مقبولیت تیزی سے بڑھی ہے، جس کے بعد وہ ایک بڑے حریف کے طور پر سامنے آئی ہے۔
اٹلی میں کوئی ایسا قانون موجود نہیں جو سکولوں یا عوامی مقامات پر برقع پر صراحت کے ساتھ پابندی لگاتا ہو۔
تاہم 1975 کا ایک قانون ایسے ہیلمٹ یا لباس کے استعمال سے منع کرتا ہے جن سے کسی معقول وجہ کے بغیر شناخت مشکل ہو جائے۔
2008 میں اٹلی کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت نے واضح کیا تھا کہ مذہبی یا ثقافتی وجوہ کی بنا پر چہرہ مکمل ڈھانپنے والا پردہ استعمال کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ شناخت کی تصدیق کے وقت چہرہ دکھایا جائے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حکمران اتحاد میں شامل تارکینِ وطن مخالف جماعت ’لیگ‘ نے رواں سال کے آغاز میں سینیٹ میں ایک بل جمع کرایا تھا۔
اس بل میں ہیلمٹ یا لباس کے استعمال پر پابندی تجویز کی گئی ہے، البتہ کھیلوں کے مقابلوں یا عبادت گاہوں جیسے مخصوص مواقع کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
ہر جماعت میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد کی حد اطالوی قانون میں پہلے سے موجود ہے۔
میلونی نے یہ نہیں بتایا کہ اس میں کیا تبدیلی کی جائے گی۔
اٹلی کے قومی ادارۂ شماریات کے مطابق ملک کے سکولوں میں داخل طلبہ میں غیر ملکی طلبہ کا تناسب 12 فیصد سے کچھ کم ہے۔
2010 سے کسی جماعت اور سکول کے کل داخلوں میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد 30 فیصد تک محدود ہے۔
جن غیر ملکی طلبہ کی زبان پر گرفت اچھی ہو، مثلاً اٹلی میں پیدا ہونے والے طلبہ، ان کے معاملے میں یہ حد بڑھائی جا سکتی ہے جبکہ اطالوی زبان پر کمزور گرفت کی صورت میں اسے کم بھی کیا جا سکتا ہے۔

