اس مہینے کی شروعات میں چھتیس گڑھ پولیس نے مشتبہ غیر قانونی تارکین وطن کی پہچان کے لیے چلائی گئی مہم کے تحت بلاسپور میں مغربی بنگال کے 23 مزدوروں کو حراست میں لیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ وہ بنگلہ دیش کے شہری تھے۔ اب دستاویزوں کی تصدیق کے بعد 19 لوگوں کو رہا کر دیا گیا ہے، اور چار لوگوں کے کاغذات کی تصدیق کی جا رہی ہے۔
نئی دہلی:مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع کے 19 مزدوروں کو ان کے دستاویزوں کی تصدیق کے بعد چھتیس گڑھ میں حراست سے رہا کر دیا گیا ہے۔ تاہم، اس سے پہلے پولیس نے کہا تھا کہ اس کی جانچ میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے تمام 23 مزدور بنگلہ دیش کے شہری تھے۔
ان مزدوروں کو اس مہینے کی شروعات میں چھتیس گڑھ پولیس نے مشتبہ غیر قانونی تارکین وطن کی پہچان کے لیے چلائی گئی مہم کے تحت بلاسپور میں حراست میں لیا تھا۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستانی شہری ہیں اور ان کے پاس ووٹر آئی کارڈ اور آدھار کارڈ سمیت دیگر دستاویز ہیں۔
دی ہندو نے سنیچر کو بتایا کہ مقامی سول عدالت کے فیصلے کے بعد جمعہ کو ان میں سے 19 مزدوروں کو رہا کر دیا گیا۔
نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق، مغربی بنگال کے مرشدآباد، مالدہ اور جنگی پور سمیت مزدوروں کے آبائی اضلاع میں ریکارڈ کی تصدیق کے بعد 19 مزدوروں کی ہندوستانی شہریت کی تصدیق ہوئی۔ اخبار کے مطابق، تفتیش کاروں نے ووٹر فہرستوں، مقامی انتظامی ریکارڈ، خاندانی تفصیلات اور مستقل رہائش سے متعلق دستاویزوں کی جانچ کی۔
رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے بلاسپور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) رجنیش سنگھ نے کہا کہ انہیں ’تصدیق کے بعد‘ رہا کیا گیا ہے۔ سنگھ نے اخبار سے کہا، ’باقی چار کے سلسلے میں مزید کارروائی ہمیں موصول ہونے والی رپورٹ پر منحصر ہوگی۔‘
باقی چار مزدور ابھی بھی پولیس کی حراست میں ہیں اور ان کے ریکارڈ کا دوبارہ ملان کیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے مستقل پتے سے متعلق کچھ تضادات ہیں اور مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں کی ایس آئی آرکے دوران ان کے نام ووٹر فہرست سے ہٹا دیے گئے تھے۔
یہ پیش رفت اس وقت پولیس کی جانب سے دیے گئے بیان سے بالکل مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جب مزدوروں کو پہلی بار حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر مرشدآباد کے سوتی، رگھوناتھ گنج اور سمشیر گنج علاقوں کے رہنے والے ہیں۔ وہ کام کی تلاش میں چھتیس گڑھ گئے تھے اور گھر گھر جا کر گھریلو سامان فروخت کرتے تھے۔
پولیس نے پہلے تمام 23 کو بنگلہ دیشی بتایا تھا
انڈیا ٹوڈے میں 7 ستمبر کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق، بلاسپور پولیس نے کہا تھا کہ مشتبہ غیر قانونی تارکین وطن اور قانونی دستاویزوں کے بغیر رہنے والے لوگوں کی شناخت کے لیے چلائی گئی مہم کے دوران اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف)نے 23 لوگوں کو حراست میں لیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ وہ مبینہ طور پر فرضی ہندوستانی دستاویز استعمال کر رہے تھے اور مغربی بنگال بھیجی گئی جانچ ٹیم کی تفتیش کی بنیاد پر سب بنگلہ دیشی شہری تھے۔
بلاسپور کے ایس ایس پی رجنیش سنگھ کے حوالے سے کہا گیا تھا، ’مرشدآباد اور آس پاس کے اضلاع میں ایس ٹی ایف کی جانب سے کی گئی تفتیش سے یہ ثابت ہوا ہے کہ وہ سب بنگلہ دیش سے ہیں۔ تاہم، ہم مزید تصدیق کا انتظار کر رہے ہیں، جس کے بعد ملک بدری کا عمل شروع کیا جائے گا۔‘
پولیس نے کہا تھا کہ تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک 23 لوگوں کو 4 ستمبر کو رائے پور کے ایک ہولڈنگ یا حراستی مرکز بھیج دیا گیا ہے۔
دی ٹیلی گراف نے بتایا کہ مزدوروں کے رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستانی شہری ہیں اور ان کے پاس آدھار کارڈ اور ووٹر آئی کارڈ موجود ہیں۔ کچھ اہل خانہ مزدوروں کی شناخت ثابت کرنے کے لیے آدھار کارڈ، ووٹر آئی کارڈ، زمین سے متعلق دستاویز اور راشن کارڈ لے کر چھتیس گڑھ پہنچے تھے۔
حراست میں لیے گئے مزدوروں میں سے ایک کے بیٹے عارف شیخ نے کولکاتہ کے اخبار کو بتایا کہ ان کے والد گزشتہ تقریباً 20 برس سے گھریلو سامان فروخت کرنے کے لیے بلاسپور آتے جاتے رہے ہیں اور ان کے پاس ووٹر آئی کارڈ اور آدھار کارڈ ہیں۔
دی کوئنٹ نے حراست میں لیے گئے لوگوں کے اہلِ خانہ سے بھی بات کی ہے۔ ان کے مطابق، مزدوروں نے اپنے رشتہ داروں کو بتایا تھا کہ پولیس پہلے بھی کئی بار ان کے دستاویزوں کی جانچ کر چکی تھی۔ پورٹل کے مطابق، حراست میں لیے گئے 23 لوگوں میں سے 22 مسلمان اور ایک ہندو تھا۔ اہل خانہ کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا کہ حراست میں لیے گئے لوگوں میں دو نابالغ تھے۔
ڈیجیٹل نیوز پورٹل نے یہ بھی بتایا کہ مزدوروں کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ پولیس نے 4 ستمبر کو کام سے لوٹنے کے بعد انہیں اٹھا لیا اور بعد میں ان کے موبائل فون بھی اپنے قبضے میں لے لیے۔
بنگال میں سیاسی مداخلت
مزدوروں کو حراست میں لیے جانے کے بعد مغربی بنگال میں سیاسی مداخلت بھی ہوئی۔ جنگی پور کے رکن پارلیامنٹ خلیل الرحمٰن نے دی ٹیلی گراف کو بتایا کہ مزدوروں کو رائے پور کے ہولڈنگ سینٹر بھیجے جانے کے بعد ان کے اہل خانہ نے ان سے رابطہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ اور چیف سکریٹری کے ساتھ ساتھ مرشدآباد کے ضلع مجسٹریٹ اور جنگی پور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھ کر مداخلت کرنے اور مزدوروں کی شہریت کی تصدیق کرانے کی درخواست کی تھی۔
جنگی پور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ پی ڈی سریندر سنگھ نے دی ٹیلی گراف کو بتایا کہ ان کا دفتر چھتیس گڑھ پولیس کے ساتھ رابطے میں ہے اور جو بھی معلومات طلب کی جائیں گی، وہ دستیاب کرائی جائیں گی۔
پی یو سی ایل نے حراست کے طریقے پر سوال اٹھائے
پیپلز یونین فار سول لبرٹیز(پی یو سی ایل)کی چھتیس گڑھ اکائی نے مزدوروں کو حراست میں لینے کے طریقے پر تنقید کی۔ نیو انڈین ایکسپریس میں شائع ایک بیان میں تنظیم کے نمائندوں نے الزام لگایا کہ مزدوروں کو وجہ بتاؤ نوٹس دیے بغیر اور اپنے دستاویز کو درست ثابت کرنے کے لیے مناسب وقت دیے بغیر حراست میں لیا گیا۔
پی یو سی ایل کے نمائندوں نے کہا، ’بغیر کوئی وجہ بتاؤ نوٹس دیے اور مشتبہ لوگوں کو اپنے دستاویزوں کی صداقت ثابت کرنے کا وقت دیے بغیر، بلاسپور پولیس نے معمولی بنیادوں پر تمام 23 لوگوں کو حراست میں لے لیا۔‘
تنظیم نے کہا کہ بعد میں مزدوروں کے آبائی اضلاع کے ریکارڈ-جن میں ووٹر فہرست، مقامی انتظامی رجسٹر، خاندانی ریکارڈ اور مستقل رہائش سے متعلق دستاویز شامل ہیں-نے رہا کیے گئے 19 مزدوروں کی حیثیت کی تصدیق کر دی۔
’بنگالی بولنا شہریت ثابت کرنے کے برابر ہو گیا ہے‘
آل انڈیا ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پارلیامنٹ سمیرالاسلام نے ان حراستوں کو ان بنگالی زبان بولنے والے لوگوں کے ساتھ مبینہ ہراسانی کے وسیع پیٹرن کا حصہ بتایا، جن پر بنگلہ دیشی ہونے کا شبہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حراست میں رکھے گئے باقی چار لوگوں کو بھی جلد رہا کر دیا جائے گا۔
اسلام نے ایکس پر کہا، ’یہ برسوں سے جاری ہے۔ اب ہماری ریاست سے باہر بنگالی بولنا ایسا ہو گیا ہے گویا بولنے والے کواپنی شہریت ثابت کرنا پڑے۔‘
انہوں نے کہا، ’ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بنگالی ہماری مادری زبان ہے اور اسے حکومت ہند نے کلاسیکی زبان کے طور پر تسلیم کیا ہے۔‘
کئی ریاستوں میں ایسی حراستوں کا سلسلہ
بلاسپور میں حراست کا یہ واقعہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران کئی ریاستوں میں کی گئی ایسی ہی کارروائیوں کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے مئی 2025 میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے بنگلہ دیش اور میانمار سے آنے والے مشتبہ غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت اور ان کی تصدیق کرنے کو کہا تھا۔ یہ دستاویز عوامی نہیں کیا گیا تھا، تاہم اس کی بڑے پیمانے پر رپورٹنگ ہوئی تھی۔
گزشتہ سال حقوق کے گروپوں نے گجرات، راجستھان، چھتیس گڑھ، اڑیسہ اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں ہزاروں بنگالی زبان بولنے والے لوگوں-جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی-کو مشتبہ غیر قانونی بنگلہ دیشی شہری کے طور پر حراست میں لیے جانے یا ان سے پوچھ گچھ کیے جانے کے واقعات کوڈاکیومنٹ کیا تھا۔ کئی معاملوں میں حراست میں لیے گئے لوگوں کے پاس درست ہندوستانی دستاویز پائے گئے اور تصدیق کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔
مغربی بنگال مائیگرنٹ ورکرز ویلفیئر بورڈ، جو ریاستی حکومت کا ایک ادارہ ہے، ان حراستوں کا معاملہ سپریم کورٹ لے گیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ مئی 2025 کے اس سرکلر کی قانونی حیثیت اور اس میں طے کیے گئے طریقے کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے رہی ہے، جس کی بنیاد پر اس طرح کی مہم چلائی جا رہی ہیں۔
اسی سے متعلق معاملوں میں مرکزی حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ جن متعدد بنگالی بولنے والے لوگوں کو بنگلہ دیش ملک بدر کیا گیا تھا، انہیں واپس لا کر ان کی شہریت کی دوبارہ تصدیق کرائی جائے گی۔

