ایلون مسک اپنے ہی سائبر ٹرک خریدنے لگے

394533 618422469


ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس، ان کی دوسری کمپنی ٹیسلا کے سائبر ٹرکس کی سب سے بڑی خریدار بن گئی ہے۔

یہ بات رجسٹریشن کے تازہ اعداد و شمار سے سامنے آئی۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں امریکہ میں فروخت ہونے والے ہر پانچ میں سے تقریباً ایک سائبر ٹرک سپیس ایکس نے خریدا۔

ایس اینڈ پی گلوبل موبیلیٹی کے رجسٹریشن ڈیٹا، جسے پہلے بلومبرگ نیوز نے رپورٹ کیا، کے مطابق سپیس ایکس نے ان ٹرکس پر 10 کروڑ ڈالر (تقریباً 7.4 کروڑ پاؤنڈ) سے زیادہ خرچ کیے۔

سپیس ایکس کی خریداریوں کے باوجود ٹیسلا کے سائبر ٹرک کی مجموعی فروخت چوتھی سہ ماہی میں مسلسل کم ہوتی رہی۔

اگر سپیس ایکس کی خریداری شامل نہ کی جائے تو سائبر ٹرک کی رجسٹریشن میں 51 فیصد کمی واقع ہوتی۔

اس سے پہلے اسی سال ٹیسلا دنیا کی سب سے بڑی برقی گاڑی بنانے والی کمپنی کا درجہ کھو چکی تھی، جب چینی کمپنی بی وائے ڈی نے اسے پیچھے چھوڑ دیا۔

ایلون مسک کی کمپنی کی فروخت میں مسلسل دو سال کمی دیکھی گئی جبکہ اس سے پہلے ایک دہائی تک ہر سال اضافہ ہوتا رہا تھا۔

ٹیسلا کو ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بھی پیچھے سمجھا جا رہا ہے جبکہ بی وائے ڈی نے حالیہ برسوں میں کئی اہم تکنیکی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2025 میں شینژن میں قائم اس کمپنی نے ایسی بیٹری متعارف کرائی جو اتنے ہی وقت میں چارج ہو جاتی ہے جتنا وقت پیٹرول گاڑی کو بھرنے میں لگتا ہے۔ اسے برقی گاڑیوں کا ’حتمی ہدف‘ کہا جاتا ہے۔

ٹیسلا کی فروخت پر بائیکاٹ کا بھی اثر پڑا ہے جو ایلون مسک کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپ میں دائیں بازو کے سیاست دانوں کی حمایت کے بعد شروع ہوئے۔

ایکسئوس اور ہیریس کی درجہ بندی کے مطابق ٹیسلا کو امریکہ کی 100 سب سے نمایاں کمپنیوں میں ’کردار‘ کے لحاظ سے آخری نمبر دیا گیا جبکہ ’اخلاقیات‘ اور ’شہریت‘ کے معیار میں بھی یہ نچلے درجے پر رہی۔

سائبر ٹرک کو ایک متنازع گاڑی سمجھا جاتا ہے، جسے ناقدین نے ’ماگا موبائل‘ اور ’ڈی لورین‘ جیسے نام دیے ہیں۔

لانچ سے قبل 2023 میں ایلون مسک نے پیش گوئی کی تھی کہ 2025 تک ٹیسلا سالانہ ڈھائی لاکھ سائبر ٹرکس فروخت کرے گی، لیکن اصل تعداد 2024 میں صرف 38 ہزار 965 رہی اور 2025 میں گر کر تقریباً 20 ہزار تک آ گئی۔





Source link

متعلقہ پوسٹ