بلوچستان میں ڈپٹی کمشنر سمیت 7 افراد لاپتہ، اغوا کا خدشہ

398609 1605913861


بلوچستان کے ضلع خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو اور ان کے گن مین، ڈرائیور سمیت چار افراد اتوار کو کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئے جبکہ ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی سے دو نوجوان کرکٹرز بھی مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں۔

خاران کے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو اور ان کے ساتھ موجود دیگر تین افراد کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے برشونکی کے مقام سے لاپتہ ہوئے، جس کے بعد ان سے ہر قسم کا رابطہ منقطع ہوگیا۔

پولیس افسر کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ان کی تلاش شروع کر دی گئی اور غالب امکان ہے کہ ڈپٹی کمشنر اور عملے کے دیگر تین افراد کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں مقامی قبائل سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

اب تک کسی تنظیم نے ان افراد کی گمشدگی یا مبینہ اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

کالعدم تنظیم بی ایل اے نوشکی، خاران، مستونگ، کوئٹہ اور ایران قومی شاہراہ پر انتہائی سرگرم ہے۔ یہ علاقے کالعدم تنظیم بی ایل اے کا مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ کالعدم تنظیم کے افراد ان علاقوں اور شہروں میں متعدد بار داخل ہو کر سرکاری املاک کو نذر آتش کرنے کے علاوہ سکیورٹی فورسز پر بھی حملے کرتے آئے ہیں۔

ڈیرہ بگٹی میں دو کرکٹر لاپتہ

دوسری جانب ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی کے دو نوجوان کرکٹرز بھی مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق دونوں کھلاڑی کچی کینال کے قریب سوئی کے رہائشی ہیں اور کندھ کوٹ سے میچ کھیل کر واپس آ رہے تھے کہ لاپتہ ہوگئے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مقامی انتظامیہ نے رپورٹ درج ہونے کے بعد دونوں کھلاڑیوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔

بلوچستان میں اغوا کے واقعات

بلوچستان میں گزشتہ دو سال کے دوران بدامنی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ سکیورٹی فورسز، تجارتی گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر حملوں کے باعث درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

2026 میں تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر اور ایک لیکچرر کے اغوا کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ تینوں تربت سے کوئٹہ کی جانب آ رہے تھے۔ کچھ عرصے بعد اغوا کاروں نے انہیں باحفاظت رہا کر دیا تھا۔

اسی سال کیچ کے اسسٹنٹ کمشنر تمپ حنیف نورزئی کو بھی اغوا کیا گیا تھا، جبکہ زیارت کے اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔ اغوا کاروں نے بعد میں اسسٹنٹ کمشنر کے بیٹے کو رہا کر دیا، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر زیارت تاحال لاپتہ ہیں۔

2025 میں سوراب کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی ایک حملے میں جان سے گئے تھے۔

اس سے قبل 2024 میں پنجگور کے ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ بھی مسلح افراد کے حملے میں جان سے گئے تھے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ