تھرمل پاور پروجیکٹ کا نقشہ۔تصویر: ایکس / ہمنتا بسوا
آسام کے دھوبری ضلع میں وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے اڈانی پاور کے 3,200 میگاواٹ کے تھرمل پاور پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ پروجیکٹ اس زمین پر بنایا جا رہا ہے، جہاں جولائی 2025 میں بنگالی نژاد کے تقریباً 1,400 مسلم خاندانوں کو بے دخل کرکے ان کے گھر گرا دیے گئے تھے۔
نئی دہلی: آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے اتوار (20 ستمبر) کو صوبہ کے دھوبری ضلع میں اڈانی پاور لمیٹڈ کی جانب سے بنائےجانے والے ایک تھرمل پاور پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ پروجیکٹ اس زمین پر بنایا جا رہا ہے، جہاں جولائی 2025 میں بنگالی نژاد 1,400 مسلم خاندانوں کے گھروں کو گرا دیا گیا تھا۔
اسکرول کی رپورٹ کے مطابق، اتوار کو وزیراعلیٰ نے کہا کہ 3,200 میگاواٹ کا یہ تھرمل پاور پروجیکٹ آسام کا ’اب تک کا سب سے بڑا پاور پروجیکٹ‘ہے اور اس سے اتنی بجلی پیدا ہوگی کہ صوبے کی بجلی کی ساری ضروریات پوری کی جا سکیں گی۔
اڈانی گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ اس پروجیکٹ کو بنائے جانےکے دوران 20,000 تک روزگار پیدا ہونے کی امید ہے، جبکہ پروجیکٹ شروع ہونے کے بعد تقریباً 5,000 لوگوں کو روزگار ملے گا۔
Assam has just launched its biggest-ever power project.
The 3,200MW Thermal Power project in western Assam will generate enough electricity to meet the State’s entire power needs.
This ₹48,000 crore project is a direct outcome of #AdvantageAssam2.0,held just 18 months ago. pic.twitter.com/CbF1AQWTc5
— Himanta Biswa Sarma (@himantabiswa) September 20, 2026
معلوم ہو کہ جولائی 2025 میں آسام حکومت نے ان گاؤں اور دیہات میں تقریباً 1,157 ایکڑ سرکاری زمین پر آباد بنگالی نژاد 1,400 سے زائد مسلم خاندانوں کے گھروں کو بجلی کے منصوبے کے لیے جگہ خالی کرانے کے مقصد سے گرا دیا گیاتھا۔
قابل ذکر ہے کہ 4جولائی 2025 کو ایک اعلان کیا گیا۔ اگلے ہی دن، 5 جولائی کو چاپر سرکل آفس کے اہلکاروں نے چاروا باکھرا جنگل بلاک، چرکٹا پارٹ-1، پارٹ-2 اور سنتوش پور سمیت گاؤں کے مختلف مقامات پر بے دخلی کے نوٹس چسپاں کیے تھے۔گھر گرائے جانے کے بعد بنگالی نژاد تقریباً 10,000 مسلمان بے گھر ہو گئے، جو کم از کم تین سے چار دہائیوں سے اس علاقے میں رہ رہے تھے۔
دی وائر نے رپورٹ کیا تھا کہ پہلے تھرمل پاور پلانٹ کی شروعات کوکراجھار ضلع کے ایک آدی واسی اکثریتی علاقے میں کی گئی تھی۔ مقامی لوگوں کی شدید مخالفت کے بعد اسے دھوبری ضلع کے بلاپشی پارا علاقے میں منتقل کر دیا گیا، جہاں بنیادی طور پر میاں کمیونٹی کے لوگ رہتے ہیں۔
یہ زمین ریاستی حکومت کی کمپنی آسام پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ(اے پی ڈی سی ایل)کو الاٹ کی گئی تھی۔ بعد میں اے پی ڈی سی ایل نے اسے اس منصوبے کے لیے اڈانی پاور لمیٹڈ کو الاٹ کر دیا۔
شرما اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ اڈانی گروپ نے فروری میں صوبے میں منعقد ایک بزنس سمٹ کے دوران مجوزہ 50,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا عہد کیا تھا۔
چودہ جولائی کو مرکزی وزارت ماحولیات کے تحت بنائی گئی ماہرین کی جائزہ کمیٹی نے اڈانی پاور لمیٹڈ کے مجوزہ کوئلے سے چلنے والے تھرمل پاور پلانٹ کو ماحولیاتی منظوری دینے کی سفارش کی تھی۔
تاہم، ماحولیاتی منظوری کے لیے وزارت کو دی گئی اپنی درخواست میں کمپنی نے کہا تھا کہ منصوبے کی جگہ پر کوئی آبادی موجود نہیں ہے، اس لیے بحالی یا آبادکاری سے متعلق کوئی دعویٰ نہیں بنتا۔
حالاں کہ، بے دخلی سے متاثرہ لوگوں نے اس دعوے کی مخالفت کی ہے۔
’جبری بے دخلی کے ذریعے منصوبے کی زمین خالی کرائی گئی‘
مقامی رہائشی عبدالرشید شیخ نے اسکرول سے کہا کہ آسام حکومت نے پہلے ہی ’جبری بے دخلی کی کارروائیوں‘کے ذریعے منصوبے کی زمین خالی کرا دی تھی، جس کے نتیجے میں 1,400 خاندان بے گھر ہو گئے اور ان کی بحالی یا آبادکاری کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا۔
شیخ نے کہا، ’تقریباً 3,500 بیگھہ سرکاری زمین جو زبردستی لی گئی، اس کے علاوہ 1,700 بیگھہ ایسی زمین بھی تھی جس پر زمین کے مالکانہ حق والے لوگ رہتے تھے اور اسے بھی لے لیا گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’زمین کے مالکانہ حق والے تقریباً 50 فیصد لوگوں کو اب تک معاوضہ نہیں ملا ہے، جبکہ ان کے کاغذات کا کام پوراہو چکا ہے۔‘
ضلع انتظامیہ نے متاثرہ لوگوں کی بحالی کے لیے بیجر الگا گاؤں میں 300 بیگھہ زمین مختص کی تھی۔ اس کے علاوہ، ان کا سامان وہاں منتقل کرنے میں مدد کے لیے یکمشت راحت کے طور پر 50,000 روپے دینے کا اہتمام کیا گیا تھا۔
تاہم، بعض مقامی لوگوں نے کہا کہ وہ وہاں منتقل ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں، کیونکہ یہ جگہ برہم پتر ندی کے درمیان واقع نشیبی اورساحلی علاقہ ہے اور وہاں سیلاب اور ندی سے متعلق دیگر خطرے درپیش ہیں۔
بتادیں کہ2اپریل کو ہوئی ضلع سطح کی لینڈ ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ کے منٹس کے مطابق، ضلع انتظامیہ نے 30 مارچ 2025 کو گاؤں کی چراگاہ کی زمین کو بجلی کے منصوبے کے لیے استعمال کرنے کے زمرے میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔
صوبے کے ریونیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2016میں جب بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اقتدار میں آئی تھی ، سے لے کر اگست 2025 تک 15,270 خاندانوں – جن میں اکثر مسلمان ہیں- کو سرکاری زمین سے بے دخل کیا گیا ہے۔ 2016 سے اب تک کی گئی بے دخلی کے دوران کم از کم آٹھ مسلمانوں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

