تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس دنیا میں اعتماد بحال کرنے اور جنگ و خونریزی کے خاتمے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے یہ بات نیویارک روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔
ایرانی صدر کے مطابق اس سال جنرل اسمبلی کا اجلاس اعتماد کی بحالی کے عنوان سے منعقد ہورہا ہے، جس سے عالمی سطح پر باہمی اعتماد میں اضافے اور موجودہ تنازعات کے خاتمے کیلئے راستہ نکالنے کی امید پیدا ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس ہفتے ایران سمیت مختلف ممالک کے رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ ایرانی وفد جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایران کے خلاف ہونے والی کارروائیوں اور ایرانی عوام کو پیش آنے والے نقصانات کا معاملہ بھی اٹھائے گا۔
ان کے مطابق میناب اور لامرد میں ایرانی بچوں اور دیگر شہریوں کو پیش آنے والے واقعات اور ان کے ذمہ داروں کی کارروائیوں پر بھی عالمی برادری کے سامنے بات کی جائے گی۔
اقوام متحدہ کی ایک حالیہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میناب کے ایک اسکول اور لامرد میں ایک اسپورٹس مرکز پر فروری کے امریکی حملوں کے حوالے سے جنگی جرائم کے شواہد موجود ہیں۔ تاہم یہ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن کے نتائج ہیں، حتمی عدالتی فیصلے نہیں۔
ایرانی صدر کا نیویارک کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے امکانات بھی زیرِ بحث ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پزشکیان سے ملاقات کے امکان کو مسترد نہیں کیا، جبکہ ایرانی وفد کو جنرل اسمبلی میں شرکت کیلئے امریکا نے ویزے بھی جاری کیے ہیں۔
پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ایران کا مؤقف اور جنگ کے حوالے سے تہران کے تحفظات عالمی رہنماؤں کے سامنے پیش کریں گے۔

