مغربی کنارے میں کار چڑھا دینے کے واقعہ میں اسرائیلی فوجی شدید زخمی

news 1790183568 3743


(ویب ڈیسک) فلسطین کے مغربی کنارے میں آج کار چڑھا دینے کے نتیجہ میں اسرائیلی فوج کا ایک اہلکار شدید زخمی ہو گیا۔

مغربی کنارے میں کار سے ٹکرانے والے حملے میں IDF  کے فوجیکے شدید زخمی  ہونے کے ساتھ یہ خبر بھی آئی کہ اسرائیلی فوج نے حملہ آور گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
بدھ کے روز وسطی مغربی کنارے میں ایک فوجی چیک پوسٹ پر  فوجی پر کار چڑھا دینے کا واقعہ رپورٹ ہوا۔ اس حملے میں اسرائیل کی فوج کا ایک ریزروسٹ فوجی شدید زخمی ہو گیا۔

فاسرائیل کی وجی اور پولیس نے بتایا کہ حملہ آور نے "بیل” چوکی پر تعینات ایک پولیس کروزر کی طرف تیزی سے گاڑی چڑھائی۔ اس جگہ پر  بیت اُر اور رام اللہ سے آنے والے روٹس 4436 اور 4437 بڑی یروشلم-تل ابیب ہائی وے روٹ 443 سے ملتے ہیں۔

آئی ڈی ایف نے  بتایا  کہ جائے وقوعہ پر کام کرنے والے فوجیوں نے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اسرائیلی سیکیورٹی اہلکاروں نے مرنے والے  کی شناخت 29 سالہ محمود محمد سلیمان کے نام سے کی ہے جو بیت الطحطہ کے قریبی گاؤں سے ہے۔

میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمبولینس سروس نے کہا کہ اس کے طبی عملے نے اس  سپاہی کا علاج کیا، جو م کار کی ٹکر لگنے کے بعد بے ہوش ہو گیا تھا۔ طبی حکام نے بتایا کہ فوجی کو سنگین حالت میں یروشلم کے شائر زیڈک میڈیکل سینٹر لے جایا گیا۔

یہ تصادم ایسے وقت میں آیا جب چھ بچوں کے والد نیتنیل شکرون کو مغربی کنارے کی بستی نیو تزف کے قریب ایک قدرتی چشمے میں ایک حملے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جسے حلامش بھی کہا جاتا ہے۔

 حالیہ مہینوں کے دوران فلسطین کے غزہ سے الگ علاقہ مغربی کنارے میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ مغربی کنارہ ابتدا سے ہی فلسطینی اتھارٹی کی کنٹرول میں رہا ہے۔

news 1790183570 5280
Caption آج 23 ستمبر 2026 کو مغربی کنارے میں "بیل” چوکی پر کار سے ٹکرانے والے حملے کا منظر۔ یہ فوٹو ٹائمز آف اسرائیل سے لی گئی۔

اسرائیل اور مغربی کنارے میں  حملوں میں 67 شہری اور اسرائیلی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ مغربی کنارے کے فلسطینی شہروں میں چھاپوں کے دوران جھڑپوں میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے مزید آٹھ ارکان ہلاک ہو گئے۔

اسی عرصے کے دوران،  فلسطینی اتھارٹی  کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیلی فورسز یا آباد کاروں کے ہاتھوں مغربی کنارے میں 1,100 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر بندوق برداروں کی تھی جو فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے، وہ فسادی جو فوجیوں یا دہشت گردوں سے تصادم کرنے والے حملے کر رہے تھے۔

یہ بھی پرھیئے:   ایران امریکہ کی  فوجی طاقت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا ، مسعود پیزشکیان کی جنرل اسمبلی میں تقریر 





Source link

متعلقہ پوسٹ