ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی اور امریکا کے ساتھ مذاکرات بھی دوبارہ شروع نہیں کیے جائیں گے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے تنازع کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے 7 شرائط مقرر کی ہیں۔ ان کے مطابق یہ شرائط تحریری طور پر پاکستان اور قطر کے پاس موجود ہیں اور ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا کو مذاکرات کی طرف بڑھنے کے لیے پہلا قدم اٹھانا ہوگا۔
محسن رضائی نے کہا کہ ایران اس مذاکراتی عمل میں واپس نہیں جائے گا جو جنگ سے پہلے جاری تھا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں تہران کی شرائط مختلف ہیں اور جب تک ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا، نہ آبنائے ہرمز کھولی جائے گی اور نہ مذاکرات کیے جائیں گے۔ ایران اس سے پہلے بھی اپنی شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچانے کا اعلان کرچکا ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق آبنائے ہرمز کھولنے کا معاملہ جنگ کے خاتمے اور امریکی فوجی دباؤ میں کمی سے بھی منسلک ہے۔ اس سے ایک روز قبل ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا تھا کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور بحری ناکہ بندی ختم کرے تو ایران ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے تیار ہوسکتا ہے۔
محسن رضائی نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکی فوجی کارروائیوں کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر کسی ملک نے ایرانی طیاروں کو اپنی فضائی حدود یا ہوائی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہ دی تو ایران بھی ان ممالک کی فضائی سرگرمیوں کے حوالے سے جوابی اقدامات کرسکتا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب پر بھی سخت تنقید کی اور اسے ایران کے خلاف امریکی مؤقف کا دفاع قرار دیا۔ یہ محسن رضائی کا بیان اور ایرانی حکومت کے مؤقف کی عکاسی ہے۔
محسن رضائی نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج نے پہلی مرتبہ اپنے میزائل کو امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کے اوپر سے پرواز کرنے کے قابل بنایا۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔
آبنائے ہرمز اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اس راستے سے عالمی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور حالیہ کشیدگی کے باعث اس کی تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔


