نیویارک — برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں سمیت عوام کی ایک بڑی تعداد حملوں میں ہلاک ہو چکی ہے، جبکہ بہت کم امداد علاقے میں پہنچ پا رہی ہے۔
برنہم نے کہا کہ برطانیہ نے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کی ہے اور چند دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو جو کچھ ہوا، وہ غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیل کے کسی بھی عمل کو جائز ثابت نہیں کر سکتا، اور جب دو ریاستی حل حملوں کی زد میں ہے تو خاموش نہیں رہا جا سکتا۔
انہوں نے مغربی کنارے میں اسرائیل کی منصوبہ بند غیرقانونی بستیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نے غیرقانونی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ غیرقانونی ہے۔ برنہم نے خبردار کیا کہ دو ریاستی حل پر عملدرآمد میں ناکامی سے سیاسی اداروں پر اعتماد ختم ہو رہا ہے، جس کا فائدہ دشمن ممالک اٹھا سکتے ہیں۔
ترک صدر رجب طیب اردگان نے بھی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، کثیر تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے اور اسپتالوں کو ایندھن کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے بڑھتے حملوں اور القدس میں مقدس مقامات تک محدود رسائی کی بھی نشاندہی کی۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا کہ دو ریاستی حل کی حمایت کو الفاظ سے آگے بڑھانا ہوگا، کیونکہ ایک آزاد، جمہوری اور خودمختار فلسطینی ریاست کے لیے درکار شرائط منظم طور پر کمزور کی جا رہی ہیں۔

