فرانس میں ملک گیر ہڑتال اور احتجاج، ایفل ٹاور سیاحوں کے لیے بند

trunmp 61126 l 1


پیرس: مہنگائی، معاشی عدم مساوات اور تعلیمی اداروں کی صورت حال کے خلاف کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کے دوران جمعرات کو ملک گیر ہڑتال کے باعث ایفل ٹاور عوام کے لیے بند کر دیا گیا۔ ٹاور کی سرکاری ویب سائٹ نے بھی بندش کی تصدیق کی۔ ہڑتال سے اسکولوں اور ٹرینوں سمیت کئی خدمات متاثر ہوئیں۔
مزدور یونین سی جی ٹی کے مطابق جمعرات کی دوپہر تک 73 شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد شریک ہو چکے تھے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق ملک بھر میں 220 سے زائد مظاہروں کا امکان تھا۔
احتجاج کا آغاز طلبہ نے اسکولوں کی بگڑتی صورت حال کے خلاف کیا، جس کے ساتھ مہنگائی اور معاشی عدم مساوات پر عوامی غصہ بھی شامل ہو گیا اور 17 اکتوبر کو حالیہ برسوں کے بدترین فسادات پھوٹ پڑے۔ حکومت کو مالیاتی مسائل سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ صدر ایمانوئل میکرون کے جانشین کے انتخاب کے قریب آنے کے ساتھ احتجاج میں شدت آ رہی ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں آگے ہیں۔
جمعرات کی صبح تولوز کے قریب ایک ہائی اسکول کو آگ لگا دی گئی، جبکہ لیون میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ پیرس میں ہائی اسکول کے طلبہ اور دیگر مظاہرین نے سڑکوں پر کچرے کے ڈبے رکھ کر راستہ بند کیا، جس کے بعد پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ حکام نے امن و امان کے لیے ملک بھر میں تقریباً 70 ہزار پولیس اور جنڈارمری اہلکار تعینات کیے۔

متعلقہ پوسٹ