تہران میں ٹرمپ مخالف مظاہرے، فرضی پھانسی کا منظر اور امریکی و اسرائیلی رہنماؤں کے بینر کو آگ

trunmp 61126 l


تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران ایرانی دارالحکومت میں امریکہ مخالف مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ تجریش اسکوائر میں اداکاروں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو سلاخوں کے پیچھے قیدی اور پھر تختۂ دار کی طرف جاتے ہوئے دکھایا۔ اس سے پہلے 21 اکتوبر کو بھی ایسا ہی ایک مظاہرہ ہوا تھا، جبکہ وسطی تہران میں ایک بل بورڈ پر ٹرمپ کے خلاف دھمکی آمیز جملہ بھی آویزاں کیا گیا۔
بدھ کو 1979 میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کی برسی پر انقلاب اسکوائر میں ہزاروں حکومت حامی مظاہرین جمع ہوئے۔ انہوں نے ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی تصاویر والا بینر اور امریکی و اسرائیلی پرچم جلائے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کو جنگ مخالف جذبات کا اظہار قرار دیا، جن میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں برتری حاصل کی۔ ٹرمپ نے مانا کہ آٹھ ماہ سے جاری جنگ اور مہنگائی نے ان کی پارٹی کو نقصان پہنچایا۔ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ انتخابی نتائج سے امریکی پالیسی بدلنے کی توقع غلط ہے۔ لڑائی دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، مگر نئے امریکی حملوں کا خدشہ برقرار ہے۔

متعلقہ پوسٹ