واشنگٹن — امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران مغربی کنارے میں کسی نئے بحران کے حق میں نہیں ہیں۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے نہیں بلکہ صدر ٹرمپ کا واضح مؤقف ہے۔
روبیو نے کہا کہ خطے میں پہلے ہی بہت کچھ جاری ہے — غزہ معاہدے کے نفاذ میں مشکلات، لبنان کی نازک صورتحال، حوثیوں اور سعودی عرب سے متعلق تازہ کشیدگی، اور ایران کے ساتھ جاری تنازع۔ انہوں نے کہا، ’’اس وقت اس خطے کو جس آخری چیز کی ضرورت ہے، وہ ایک اور محاذِ کشیدگی ہے، اور ہمارے خیال میں اسرائیل کو بھی کسی اضافی محاذ کی ضرورت نہیں۔‘‘ ان کے مطابق واشنگٹن نے یہ مؤقف تمام متعلقہ فریقوں تک پہنچا دیا ہے۔
یمن میں حوثیوں کے حملوں کے جواب میں ممکنہ امریکی اقدامات سے متعلق سوال پر روبیو نے فوجی تفصیلات بتانے سے انکار کیا، تاہم کہا کہ امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ "بہت مضبوط دفاعی معاہدہ” ہے جس کے تحت واشنگٹن اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ انہوں نے سعودی عرب کی مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن کی بحالی کا خیرمقدم کیا، جو ڈرون حملوں کے بعد بند کر دی گئی تھی — سعودی عرب نے ان حملوں کا الزام عراقی ملیشیاؤں پر عائد کیا ہے۔
روبیو نے ایران کی حمایت یافتہ گروپوں پر خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام بھی لگایا، اور کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس صورتحال سے نمٹنے کے لیے "بہت سے آپشنز” موجود ہیں۔

