کفایت شعاری: حکمراں اور عوام

2725368 mjgohar 1729021606


وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے امریکا ایران جنگ سے مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی بحرانی کیفیت اور عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روز افزوں اضافے کے تناظر میں ملک بھر میں تین ماہ کے لیے سادگی اور کفایت شعاری مہم کا آغاز کر دیا ہے، تاکہ دستیاب پٹرول کے استعمال میں کچھ کمی اور بچت ممکن ہو سکے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے بقول صوبائی و علاقائی حکومتیں بھی اپنے طور پر کفایت شعاری مہم کے حوالے سے اقدامات اٹھا سکتی ہیں۔

حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری فیول میں 50 فی صد کٹوتی، غیر ملکی دوروں اور نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی ہوگی۔ شادی کی تقریبات میں صرف ایک ڈش سے مہمانوں کی تواضع کی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں ملک بھر کی مارکیٹیں، دکانیں، شاپنگ مالز رات 9 بجے اور شادی ہال دس بجے تک بند کرنا ہوں گے، جب کہ تمام ہوٹل، ریسٹورنٹ اور کیفے رات 11 بجے تک بند ہوں گے، البتہ میڈیکل اسٹور، لیبارٹریز، دوا خانے، اسپتال، تندور، پٹرول پمپ، آئی ٹی کمپنیاں اور کال سینٹر کو پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ امریکا ایران جنگ کی وجہ آبنائے ہرمز جو دنیا کو تیل کی سپلائی کا اہم ترین راستہ ہے، ہر دو ممالک کی جانب سے پابندیوں کی زد میں ہے۔ تیل کا عالمی بحران بڑھتا جا رہا ہے۔ ادھر حوثیوں نے بھی اچانک کروٹ لے کر سعودی عرب کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے اور بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع آبنائے باب المندب، جو تیل کی سپلائی کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے جس کے نتیجے میں تیل کا عالمی بحران مزید گمبھیر اور سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

اس پہ مستزاد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر ایران کو ’’مکمل تباہ‘‘ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پورے ایران کو ایک ہی رات میں ختم کیا جا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورت حال مزید کشیدہ ہونے اور تباہ کن جنگ کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں تیل مزید مہنگا اور مہنگائی و گرانی کا گراف مزید اوپر جائے گا، جس سے لامحالہ پاکستان بھی متاثر ہوگا۔ اس پس منظر میں وزیر اعظم کی اعلان کردہ کفایت شعاری مہم حوصلہ افزا ہے۔ وزیر اعظم کے بقول سب سے پہلے حکومت اور ملک کی اشرافیہ سے قربانی کا آغاز کیا جائے گا تاکہ مالی طور پر کمزور طبقے اور عام آدمی کو ریلیف مل سکے اس ضمن میں پٹرولیم مصنوعات میں 100 روپے فی لیٹر کمی کی گئی جو موٹرسائیکل، رکشہ اور 800 سی سی کی گاڑیوں کو فراہم کی جا رہی ہے۔

اس ملک کا ایک تکلیف دہ المیہ یہ ہے کہ حکمران اور طبقہ اشرافیہ کو ایسی ایسی مراعات، سہولیات اور آسانیاں حاصل ہیں کہ عام آدمی ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ تعلیم سے لے کر صحت تک اور روزگار سے لے کر رہائش تک اور غربت سے لے کر امارت تک غرض ہر شعبہ ہائے زندگی میں ملک کے حکمران اور اشرافیہ بلندی پر کھڑے نظر آتے ہیں تو عام آدمی غربت کی پاتال میں ایڑیاں رگڑتا دکھائی دیتا ہے۔ قربانی ہمیشہ غریب سے مانگی جاتی ہے اور حکمران و امیر طبقہ ہر دور میں عیاشیاں کرتا ہے۔ سرکاری وسائل اور قومی خزانے کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔

عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس دیتے ہیں کہ اس کے بدلے حکومت انھیں تعلیم، صحت، روزگار اور رہائش فراہم کرے گی لیکن افسوس کہ عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں کو حکمران طبقہ اپنے ذاتی  اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کرپشن و بدعنوانی کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ ایک طرف حکمرانوں کی شاہ خرچیوں کا عالم ہے اور دوسری طرف ملک کے کروڑوں غریب دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہیں۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ایک کروڑ 15 لاکھ بچے غربت و مفلسی کے باعث اسکول جانے سے قاصر ہیں جب کہ سندھ میں یہ تعداد تقریباً 44 فی صد کے قریب ہے اور حکمرانوں اور اشرافیہ کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال پاکستان میں تقریباً 17 لاکھ افراد بیماری سے مر جاتے ہیں جب کہ حکمران اپنا اور اپنے بچوں کا علاج کرانے سرکاری خرچے پر لندن جاتے ہیں۔ اس کھلے تضادات کے بعد بھی قربانی ہمیشہ عوام سے مانگی جاتی ہے۔ مناسب ہوگا کہ کفایت شعاری مہم کو حکمرانوں اور اشرافیہ پر مستقل بنیادوں پر لازم کیا جائے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ