وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے پولیس ایکٹ 2026 پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کو کہا ہے کہ یہ قانون سازی آئین اور پولیس سروس رولز سے متصادم ہے اور صوبائی حکومت کو اس فورس کا کمانڈ سٹرکچر تباہ نہیں کرنے دیا جا سکتا۔
خیبر پختونخوا کابینہ نے بدھ کو پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے کی منظوری دی تھی، جس میں پولیس کے انتظامی ڈھانچے، اعلیٰ افسران کی تعیناتی اور تبادلوں سمیت پولیس پالیسی اور آپریشنز سے متعلق اختیارات میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا کابینہ کے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آئینی اور وفاقی ڈھانچے سے بنائے گئے قوانین یعنی پاکستان پولیس سروس رولز کو آپ کو اوور رائٹ نہیں کر سکتے۔‘
بقول وزیر مملکت: ’ایک ایسی پولیس جو دہشت گردی سے لڑ رہی ہے، جو روز شہادتیں دے رہی ہے اور ایک ایسی پولیس جو نہتی ہونے کے باوجود اپنی سروسز دے رہی ہے اور اپنی جانیں تک قربان کر رہی ہے، آپ اس کے کمانڈ سٹرکچر کو تباہ نہیں کر سکتے۔ ایک ایسی قانون سازی سے، جو کہ متصادم ہے پاکستان کے آئین سے بھی، پی ایس رولز سے بھی۔ آپ یہ نہیں کر سکتے کہ اس کا سٹرکچر ہی تباہ کر دیں۔‘
انہوں نے اس مسودے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’17ویں گریڈ سے لے کر آئی جی کی تعیناتی تک ہر سکیل کے اختیار کسی نہ کسی طرح وزیراعلیٰ نے اپنی جیب میں اور اپنی سیاسی جماعت کے تابع کرنے کی کوشش کی ہے۔‘
طلال چوہدری نے سوال اٹھایا: ’یہ کمانڈ اینڈ کنٹرول اگر آپ تباہ کریں گے تو کیا پولیس اسی طرح لڑے گی؟ وہ اپنے افسروں کی طرف دیکھنے کی بجائے سیاسی فیصلے نہیں کرے گی؟‘
انہوں نے مزید کہا کہ چاروں صوبوں کے وزیراعلیٰ کے پاس پولیس فورس سے متعلق محدود اختیارات ہیں، جس سے کمانڈ سٹرکچر اور مورال متاثر نہیں ہوتا، ’مگر آپ نے تو انتہا کر دی۔‘
پولیس کے اختیارات میں کیا تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں؟
مجوزہ قانون کے تحت وزیراعلیٰ پولیس پالیسی بورڈ کے سربراہ ہوں گے جبکہ پولیس آپریشنز بورڈ کی سربراہی صوبائی پولیس افسر کریں گے۔
مسودے میں ریجنل اور ضلعی پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کے طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔
صوبائی پولیس افسر کو سالانہ پولیسنگ پلان تیار کرکے پولیس پالیسی بورڈ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا ہوگا۔
مسودے میں وفاق سے صوبے میں تعینات پولیس افسران، بشمول آئی جی کی کارکردگی سے صوبائی حکومت مطمئن نہ ہونے کی صورت میں ان کی خدمات واپس کرنے کی درخواست کا اختیار بھی تجویز کیا گیا ہے۔
حکومت ان تبدیلیوں کو کیسے دیکھتی ہے؟
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پولیس ایکٹ کے مسودے میں تبدیلیاں پولیس حکام سے مشاورت کے بعد کی گئی ہیں۔
ان کے مطابق: ’نئے قانون کا مقصد پولیس کے نظام میں جوابدہی بڑھانا، تفتیش بہتر کرنا اور پولیس کی پالیسی اور آپریشنل ذمہ داریوں کے درمیان واضح تقسیم قائم کرنا ہے۔‘
شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے مسودے کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات پیش کیں، جن پر کابینہ نے مزید تجاویز کے ساتھ غور کرکے ترمیم شدہ مسودے کی منظوری دی۔
اس قانون پر اعتراض کی وجہ کیا ہے؟
مجوزہ قانون میں پولیس کے انتظامی معاملات میں حکومت کے کردار سے متعلق تبدیلیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب پشاور ہائی کورٹ پولیس کی آپریشنل خودمختاری سے متعلق ایک فیصلہ دے چکی ہے۔
فروری 2026 میں عدالت نے پولیس ایکٹ 2017 میں 2024 کی ترامیم کی اہم شقیں کالعدم قرار دی تھیں۔ ان ترامیم کے تحت گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے پولیس افسران کی تعیناتی وزیراعلیٰ کی منظوری سے مشروط کی گئی تھی اور فیلڈ کمانڈرز کی تعیناتی کا اختیار آئی جی سے واپس لیا گیا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عدالت نے قرار دیا تھا کہ پولیس کے روزمرہ انتظامی معاملات، جن میں تعیناتیاں اور تبادلے شامل ہیں، آئی جی کے دائرۂ اختیار میں رہنے چاہییں جبکہ حکومت کا کردار وسیع پالیسی اور نگرانی تک محدود ہونا چاہیے۔
نئے مسودے میں پولیس کے انتظامی اور تعیناتی سے متعلق معاملات میں حکومت کے کردار کے باعث اس قانون کو اسی عدالتی فیصلے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
اس مجوزہ قانون پر صوبائی حکومت اور گورنر خیبر پختونخوا کے بھی مؤقف مختلف ہیں۔ حکومت اسے پولیس کے نظام میں جوابدہی اور انتظامی اصلاحات کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے جبکہ گورنر فیصل کریم کنڈی نے موجودہ شکل میں اس کی مخالفت کی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ پولیس ایکٹ 2026 کو موجودہ شکل میں منظور نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مسودہ منظوری کے لیے ان کے پاس آیا تو وہ اپنے اعتراضات اٹھائیں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے مجوزہ قانون کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس سے آئی جی اور پولیس پر صوبائی حکومت کا اختیار بڑھ سکتا ہے۔‘
گورنر کے مطابق حکومت کو پولیس کے معاملات میں ایسا اختیار نہیں ملنا چاہیے، جو پولیس کی خودمختاری کو متاثر کرے۔
تاہم صوبائی حکومت اس مؤقف سے اختلاف کرتی ہے اور شفیع جان کے مطابق: ’مسودے کا مقصد پولیس پر سیاسی کنٹرول بڑھانا نہیں بلکہ اس کے انتظامی اور جوابدہی کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔‘
کیا کابینہ کی منظوری کے بعد قانون نافذ ہوجائے گا؟
کابینہ کی منظوری کے بعد پولیس ایکٹ 2026 کا مسودہ اب صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جہاں اس پر مزید قانون سازی ہوگی۔
اس مرحلے کے بعد آئینی طریقہ کار مکمل ہونا باقی ہے۔ گورنر پہلے ہی موجودہ شکل میں مسودے پر اعتراض کا عندیہ دے چکے ہیں۔
یوں کابینہ سے منظوری ملنے کے باوجود پولیس ایکٹ 2026 کی حتمی قانونی حیثیت ابھی طے نہیں ہوئی اور اس کی اگلی صورت صوبائی اسمبلی کی کارروائی کے بعد سامنے آئے گی۔

