"ہم پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے”: ایران کا انتباہ

iran army officer d


تہران،— ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے دوبارہ حملہ کیا تو جاری مشرق وسطیٰ کی جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے، جبکہ خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں کشیدگی پہلے ہی برقرار ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے سینئر فوجی مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج تمام ممکنہ حالات، بشمول ملکی تنصیبات یا قومی مفادات پر مزید حملوں، کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق صفوی نے کہا: "ہم نہیں جانتے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ مزید کشیدگی سے جنگ کا جغرافیائی دائرہ نمایاں طور پر وسیع ہوسکتا ہے، اور کہا کہ چونکہ جنگ اب خلیج اور آبنائے ہرمز سے بحیرہ احمر تک پھیل چکی ہے، امریکہ کے ساتھ ممکنہ تنازع کے اگلے مرحلے میں یہ محاذ بحر ہند یا کسی اور خطے تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا جب یمن کے حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیا ہے، جس سے تزویراتی آبنائے باب المندب کے اطراف دباؤ بڑھ گیا ہے۔ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے، جن سے جنگ کے موجودہ مرحلے کا آغاز ہوا تھا، ایران نے آبنائے ہرمز سے اپنی بحری آمدورفت بھی محدود کر رکھی ہے — یہ آبنائے عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔

متعلقہ پوسٹ