چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار، ان کے ساتھ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
سابق الیکشن کمشنر ارون گوئل کے اچانک استعفیٰ کے بعد عام انتخابات کے پروگرام کا اعلان ہونے سے کچھ دن پہلے ہی مارچ 2024 میں گیانیش کمار کو الیکشن کمشنر بنایا گیا۔ مرکزی وزارت داخلہ اور منسٹری آف کوآپریشن میں کام کر چکے کمار مودی حکومت کے خاص پروجیکٹ اور منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
نئی دہلی: بدھ (23 ستمبر) کو ’انڈین ایکسپریس‘ نے اپنی رپورٹ میں ہندوستان کے تین رکنی الیکشن کمیشن کے درمیان ہونے والی سرکاری بات چیت کے بارے میں بتایا۔ اس سے پتہ چلا ہے کہ گزشتہ 10 مہینوں میں کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے زیادہ تر احکامات پر الیکشن کمشنروں کی اکثریت کی رضامندی نہیں تھی۔ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار گپتا کے کاموں پر کم از کم 14 بار سرکاری طور پر اعتراض کیا گیا ہے۔
یہ وقت ہندوستان کی ووٹر لسٹ، جو ملک کی جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، کی شفافیت کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ انتہائی متنازعہ حالات میں ایس آئی آر کے تحت 12 کروڑ نام ووٹر لسٹوں سے ہٹا دیے گئے ہیں، اور عدالت میں اس سے متعلق کیس کے بیچ ناراض اور غیر مطمئن ووٹر نام ہٹائے جانے کا الزام لگا رہے ہیں۔
اب پتہ چلا ہے کہ یہ عمل بذات خود آئین کے آرٹیکل 324 کی خلاف ورزی ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تمام فیصلے جہاں تک ممکن ہو اتفاق رائے سے اور کازمی طور پر اکثریت کی رضامندی سے لیے جائیں گے۔ یہ اختیارات الیکشن کمیشن کے پاس ہیں، نہ کہ صرف سی ای سی کے پاس۔
تینوں الیکشن کمشنر مودی حکومت کی جانب سے مقرر کیے گئےہیں اور انہیں اس متنازعہ نئے قانون کے تحت مقرر کیا گیا، جس کے ذریعے تقرری کے انتخابی پینل سے ہندوستان کے چیف جسٹس (سی جے آئی) کی موجودگی ختم کر دی گئی تھی۔ سی جے آئی کی موجودگی کا مقصد اتنے اہم آئینی عہدے کے لیے غیر جانبدارانہ تقرری کو یقینی بنانا تھا۔
کون ہیں گیانیش کمار گپتا؟
الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق، ہندوستان کے 26ویں چیف الیکشن کمشنر انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کے 1988 بیچ کے کیرالہ کیڈر کے افسر ہیں۔ آئی آئی ٹی کانپور سے بی ٹیک کی پڑھائی پوری کرنے کے بعد انہوں نے بزنس فنانس اور انوائرمنٹل اکنامکس کی بھی پڑھائی کی ہے۔
وہ ملیالم بھی بخوبی بول سکتے ہیں، تاہم ایک وائرل پریس کانفرنس میں، جہاں پورے ہندوستان سے آئے صحافی ان سے پولنگ بوتھ کے اندر کے ڈیٹا اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے متعلق الیکشن کمیشن کے طور طریقے میں ہوئے چھوٹی لیکن اہم تبدیلیوں کے بارے میں سوال کر رہے تھے، تووہ ہندی پرہی مصر رہے۔جب اس بات پر سوال اٹھائے جا رہے تھے کہ کمیشن ووٹروں کی فوٹیج کیوں محفوظ نہیں رکھ رہا یا اسے عوامی طور پرجاری کیوں نہیں کیا جا رہا، تو انہوں نے پولنگ بوتھ کے سی سی ٹی وی میں ریکارڈ ہونے پر ’ماں، بیٹی، بہو‘ یعنی خواتین کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھایا تھا۔
کیرالہ حکومت میں سکریٹری کی حیثیت سے انہوں نے کئی محکموں کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور کانگریس اور لیفٹ فرنٹ، دونوں حکومتوں کے ساتھ کام کیا ہے۔
حکومتِ ہند میں وہ وزارت دفاع میں جوائنٹ سکریٹری اور وزارت پارلیامانی امور میں سکریٹری رہے۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ میں ان کے کام اور امت شاہ کے ساتھ براہ راست کام کرنے کی وجہ سے ان کا کیریئر تیزی سے آگے بڑھا۔ رواں سال کے اوائل میں نیوز لانڈری نے ایک پروفائل میں لکھا تھا کہ وہ اس ’خاص ٹیم‘ کا حصہ تھے جسے کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے کے لیے قانونی اور ایڈمنسٹریٹو راستہ تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
اس میں بلوکرافٹ ڈیجیٹل فاؤنڈیشن، ایک ایسا ادارہ جس کے بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی سے قریبی رشتے ہیں- کی جانب سے شائع کی گئی ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے آرٹیکل 370 ہٹانے میں ان کے کردار کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے۔ بلوکرافٹ کی اس کتاب میں مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور کئی نوکرشاہوں کے انٹرویو شامل ہیں، اور یہ اس منصوبے کی ’کافی حد تک تعریف پر مبنی روداد‘ پیش کرتی ہے۔
وزارت داخلہ میں جوائنٹ سکریٹری اور ایڈیشنل سکریٹری اور وزارت تعاون میں سکریٹری کی حیثیت سے وہ مودی حکومت کے اہم منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے۔ انہوں نے رام مندر ٹرسٹ بنانے میں مدد کی اور ٹرسٹ کی شروعاتی اکائی میں مرکز کی جانب سے عہدے کے لحاظ سے رکن بنائے گئے تھے؛ تاہم، غبن اور چڑھاوا چوری کے الزامات کے سامنے آنے کے بعد اب یہ ٹرسٹ تنازعہ کا شکار ہے۔
گیانیش کمار وزارت پارلیامانی امور میں سکریٹری بھی رہے۔ جب وہ وزارت تعاون میں تھے، تب مرکزی حکومت نے ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز (ایم ایس سی ایس) (ترمیمی) ایکٹ، 2023 نافذ کیا اور ملک گیر سطح پر تین کوآپریٹو تنظیمیں قائم کیں۔ یہ امت شاہ کا خاص پروجیکٹ تھا، جس نے ہندوستان کے سب سے ڈی سینٹرلائزڈ اداروں یعنی کوآپریٹو سوسائٹیز پر مرکز کا غیر معمولی کنٹرول قائم کر دیا ہے۔ کمار کی آخری تعیناتی وزارت تعاون میں سکریٹری کے عہدے پر تھی، جس کے سربراہ امت شاہ ہیں۔
جنوری 2024 میں آئی اے ایس سے ریٹائر ہونے کے دومہینے سے بھی کم عرصے میں انہیں 15 مارچ 2024 کو ہندوستان کے الیکشن کمیشن میں الیکشن کمشنر بنا دیاگیا۔
یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ الیکشن کمیشن کے لیے ایک انتہائی پریشان کن دور تھا، جب 2024 کے عام انتخابات کی تاریخوں کے اعلان سے چند روز قبل ہی الیکشن کمشنر ارون گوئل نے اچانک استعفیٰ دے دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ گوئل نے اس وقت کے سی ای سی راجیو کمار کے من مانے رویے کی وجہ سے عہدہ چھوڑا تھا۔ تاہم، سرکاری طور پر انہوں نے ’ذاتی وجوہات‘ کا حوالہ دیا تھا۔ ہندوستان کی صدر دروپدی مرمو نے فوراً ان کا استعفیٰ منظور کر لیا؛ نہ تو کوئی سوال پوچھا گیا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی جواب دیا گیا کہ کمیشن میں کیا چل رہا تھا۔
ان کی بیٹی اور نوئیڈا کی ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) میدھا روپم بھی حال ہی میں تنازعہ میں گھرگئی تھیں۔ یہ معاملہ طلبہ کارکن آکرتی چودھری سے متعلق تھا، جنہیں قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت جیل بھیجا گیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے ڈی ایم کوسخت تنقید کا نشانہ بنیااور دیگر افسران کو ’تاناشاہ‘ بتایا۔ عدالت نے کہا تھا کہ وہ اتر پردیش کو ’تاناشاہی‘ کی طرف لے جا رہے ہیں اور ایک ’من گھڑت کہانی‘ کی بنیاد پر آکرتی کو جیل بھیجنے پر سرزنش کی تھی۔ گرفتاری میں کردار کے لیے روپم کو 5 لاکھ روپے کا جرمانہ اور معاوضہ ادا کرنا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، جہاں ایک متنازعہ فیصلے میں جسٹس ستیش چندر شرما کی بنچ نے ہائی کورٹ کی جانب سے میدھا روپم پر عائد جرمانے پر روک لگا دی۔
الیکشن کمشنروں کی متنازعہ تقرری
گیانیش کمار گپتا، نئے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ، 2023 کے تحت مقرر کیے جانے والے پہلے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) ہیں۔
اس نئے متنازعہ بل نے 1991 کے پرانے قانون کی جگہ لی تھی۔ اس میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کی تقرری، تنخواہ اور انہیں عہدے سے ہٹانے کی دفعات شامل ہیں۔ اب سلیکشن کمیٹی میں وزیر اعظم، ایک مرکزی کابینہ وزیر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر یا سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے لیڈر شامل ہوتے ہیں۔
آئین کے مطابق، پارلیامنٹ کے کسی قانون کی دفعات کے تحت صدر جمہوریہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کی تقرری کریں گے۔ دستور ساز اسمبلی کی بحث کے دوران ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے کہا تھا کہ انتخابی سسٹم حکومت کے کنٹرول سے باہر ہونا چاہیے۔ دستور ساز اسمبلی کے ارکان الیکشن کمیشن کی تقرری کے طریقہ کار کو پارلیامنٹ کی صوابدید پر چھوڑنے پر متفق ہوئے۔
سال 1991 میں پارلیامنٹ نے الیکشن کمیشن (الیکشن کمشنروں کی سروس کی شرائط اور کام کاج کا انتظام) ایکٹ منظور کیا۔ اس قانون میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کی تنخواہ تو طے کی گئی، لیکن ان کی تقرری کے طریقہ کار کے بارے میں کوئی طریقہ نہیں بتایا گیا؛ یہ صدر کے ذریعے طے کیا جاتا رہا، یعنی یہ ایک ایگزیکٹو فیصلہ تھا۔
مارچ 2023 میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنر کی تقرری کا جائزہ لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ان کی تقرری صرف حکومت (ایگزیکٹو) کی مرضی پر نہیں ہونی چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو حکومت کے کنٹرول سے آزاد ہونا چاہیے۔
عدالت نے تقرری کا ایک ضابطہ طے کیا، جسے اس وقت تک لاگو رہنا تھا جب تک پارلیامنٹ کوئی قانون نہیں بنا دیتی۔ عدالت نے ہدایت دی کہ تقرری صدر جمہوریہ کی جانب سے ایک سلیکشن کمیٹی کی سفارش پر کی جائے، جس میں وزیر اعظم،لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈراورہندوستان کے چیف جسٹس (سی جے آئی) شامل ہوں گے۔
چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز (تقرری، سروس کی شرائط اور مدت کار) بل، 2023 کو 10 اگست 2023 کو راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا، جس میں سی جے آئی کو شامل نہیں کیا گیا؛ اس طرح اصل میں یہ عمل عملی طور پر مودی، شاہ اور اپوزیشن لیڈر تک محدود ہو گیا۔ انڈین ایکسپریس کی بدھ کی رپورٹ کے مطابق، ادھیر رنجن چودھری اور راہل گاندھی نے سپریم کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی کے خلاف اختلاف رائے ظاہر کیا تھا۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

