مرکزی وزیر چراغ پاسوان۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
انڈین ایکسپریس کی الیکشن کمیشن پرپڑتال پر تنازعہ کے درمیان مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے کہا ہے کہ اگر آزاد آئینی ادارے الیکشن کمیشن پر سوال اٹھ رہے ہیں، تو چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا موقف واضح طور پر سامنے رکھیں۔ اگر لوگ انتخابی عمل پر ہی شبہ کرنے لگیں تو یہ تشویشناک ہے۔
نئی دہلی: مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے جمعہ (25 ستمبر) کو مطالبہ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو دی انڈین ایکسپریس کی صحافی رتیکا چوپڑا کی پڑتال میں اٹھائے گئے سوالوں پر عوامی طور پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔
اس پڑتال میں ووٹر لسٹوں کی جاری متنازعہ ایس آئی آر کے دوران الیکشن کمیشن کے ارکان کے درمیان اندرونی اختلافات سامنے آنے کی بات کہی گئی ہے۔ پاسوان نے کہا کہ ’اگر لوگ انتخابی عمل پر ہی شبہ کرنے لگیں تو یہ تشویشناک ہے۔‘
اخبار نے اکتوبر 2025 سے اگست 2026 کے درمیان کے اندرونی نوٹس اور خط و کتابت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ الیکشن کمشنروں – سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی – نے 10 مہینوں کے دوران کم از کم 14 مواقع پر گیانیش کمار کی سربراہی میں لیے گئے اہم فیصلوں پر باضابطہ طور پر اعتراضات درج کرائے تھے۔
مرکز میں حکمراں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے ایک اہم اتحادی پاسوان نے کہا کہ چونکہ الیکشن کمیشن آزادانہ طور پر کام کرنے والا ایک آئینی ادارہ ہے، اس لیے چیف الیکشن کمشنر کو اس تنازعہ پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا،’اگر آزاد آئینی ادارے الیکشن کمیشن پر سوال اٹھ رہے ہیں تو سی ای سی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا موقف واضح طور پر سامنے رکھیں۔ اگر لوگ انتخابی عمل پر ہی شک وشبہ کرنے لگیں تو یہ تشویشناک ہے۔ الیکشن کمیشن کو اپنا موقف پیش کرنا چاہیے- راہل گاندھی کے سامنے نہیں، بلکہ عوام کے سامنے۔‘
پاسوان نے کہا، ’میں واضح کر دوں کہ حکومت کا حصہ ہونے کے ناطے میرا مقصد کسی آئینی ادارے کا دفاع کرنا نہیں ہے۔ اپوزیشن کے الزامات سے بھی مجھے کوئی خاص تشویش نہیں ہے، کیونکہ اپوزیشن ہمیشہ وہی موقف اختیار کرے گی جو اسے سیاسی طور پر مفید لگے۔‘
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اپنے کام کرنے کے طریقے کے حوالے سے عوام کے خدشات کا ازالہ کرنا چاہیے۔
پاسوان نے کہا،’اگر لوگوں کا انتخابی نظام سے بھروسہ اٹھنے لگا تو یہ جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن کو اورمضبوطی سے اپنی بات رکھنی چاہیے۔ اسے راہل گاندھی اور ان کے اتحادیوں کی باتوں کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اسے لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شک وشبہ کو ضرور دور کرنا چاہیے۔‘
دریں اثنا، اڑیسہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے سربراہ نوین پٹنائک نے بھی کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ مطالبہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیے جانے کے ایک دن بعد کیا۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، جمعہ کو اڑیسہ اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پٹنائک نے کہا،’الیکشن کمشنروں اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان شدید اختلافات کے پیش نظر سی ای سی کو فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے اور ایس آئی آر کے پورے عمل کا گہرائی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔‘
راہل گاندھی نے سی ای سی سے ’گواہ بننے‘کے لیے بھی کہا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کمار جانتے تھے کہ مودی اور شاہ انہیں اور الیکشن کمیشن کو عوام کی جانچ پڑتال سے بچا رہے تھے، اور اسی لیے وہ مبینہ انتخابی دھاندلی کے بارے میں ثبوت دے سکتے ہیں۔
جمعرات کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کمار کو استعفیٰ دینے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ اگر سی ای سی اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے ہیں، تو وہ 2 اکتوبر سے ممبئی میں ملک گیر تحریک شروع کرے گی۔
اب تک ایس آئی آر کے عمل کے ذریعے ملک بھر کی ووٹر لسٹوں سے 12 کروڑ نام ہٹائے جا چکے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کی دو حصوں پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی ای سی کی جانب سے ایس آئی آر سے متعلق لیے گئے فیصلے بڑے پیمانے پر آئین کے آرٹیکل 324 کی دفعات کے برعکس تھے۔
آرٹیکل 324 میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن میں جہاں تک ممکن ہو، تمام فیصلے اتفاق رائے سے لیے جانے چاہیے اور جہاں اتفاق رائے ممکن نہ ہو، وہاں اکثریت کی رضامندی کی بنیاد پر فیصلہ کیا جانا چاہیے۔

