علامتی تصویر: پی ٹی آئی
اتراکھنڈ میں ایس آئی آر کے دوران 95 ہزار سے زیادہ ووٹروں کو ’نااہل‘ قرار دیا گیا ہے۔ تقریباً 1.73 لاکھ فارم 7 کی درخواستوں میں یہ معاملے سامنے آئے ہیں۔ فارم 7 کا استعمال ووٹر لسٹ سے کسی شخص کا نام ہٹانے کی درخواست کے لیے کیا جاتا ہے۔ کانگریس نے نام ہٹانے کے طریقہ کار اور اس کے پیٹرن پر سوال اٹھائے ہیں۔ اگلے سال کی شروعات میں ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔
نئی دہلی:اتراکھنڈ کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) نے جمعرات (24 ستمبر) کو بتایا کہ ریاست میں ایس آئی آرکے دوران داخل کی گئی تقریباً 1.73 لاکھ فارم 7 کی درخواستوں میں سے 95,000 سے زیادہ کو ’نااہل‘ قرار دیا گیا ہے۔
فارم 7 کا استعمال ووٹر لسٹ سے کسی شخص کا نام ہٹانے کی درخواست کے لیے کیا جاتا ہے۔ جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ میں بحال نہیں ہو سکے، وہ یا تو الیکشن کمیشن کی ’لاجیکل ڈسکریپینسی‘ یعنی منطقی تضاد سے متعلق سماعت میں اپنا موقف ثابت نہیں کر سکے یا شنوائی میں حاضر ہی نہیں ہوئے۔
ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر بی وی آر سی پرشوتم نے کہا کہ یہ تمام 95,000 معاملے منطقی تضاد سے متعلق تھے۔ سی ای او کے دفتر نے واضح کیا کہ ’نااہل‘ قرار دیے گئے ووٹروں میں وہ لوگ شامل ہیں، جو تصدیق کے لیے ضروری دستاویز پیش نہیں کر سکے یا سماعت میں خود یا اپنے خاندان کے کسی فرد کے توسط سے حاضر نہیں ہوئے۔
سی ای او کے مطابق، ’نااہل‘ قرار دیے گئے ووٹر حتمی ووٹر لسٹ شائع ہونے کے بعد فارم 6 جمع کرا کے دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کی درخواست کر سکتے ہیں۔
تاہم، فارم 6 کا استعمال نئے ووٹروں کو شامل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، مثلاً ایسے افراد جنہوں نے 18 سال کی عمر مکمل کر لی ہو یا ایسے لوگ جنہوں نے پہلے کبھی ووٹ نہ دیا ہو۔
اس کے علاوہ فارم 6 کے ساتھ دستاویزی ثبوت دینا بھی ضروری ہے۔ ایسے لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ پہلے سے ووٹ ڈالتے رہے ہیں لیکن ’منطقی تضاد‘ کی وجہ سے ان کا نام چھوٹ گیا، انہیں یہ ثابت کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے کہ وہ پہلی مرتبہ ووٹر بن رہے ہیں۔ اگر کوئی شخص خود کو پہلی بار ووٹر ظاہر کرکے غلط جانکاری دیتا ہے تو اسے قانونی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اتراکھنڈ کی فائنل ووٹر لسٹ 3 اکتوبر کو شائع کی جائے گی، یعنی اب اس میں تقریباً ایک ہفتے کا وقت باقی ہے۔ واضح ہو کہ اگلے سال کی شروعات میں ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔
ریاست میں ایس آئی آر کے عمل کو لے کر تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب 14 جولائی کو مسودہ ووٹر لسٹ شائع کی گئی۔ اس میں 2022 کی فائنل ووٹر لسٹ میں درج 79.6 لاکھ ووٹروں کے مقابلے میں 71.33 لاکھ کم ووٹر درج تھے۔
تاہم، اس کے بعد دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کے مرحلے میں فارم 7 کی درخواستوں کی تعداد تیزی سے بڑھی۔ شروعات میں 1.30 لاکھ سے زیادہ درخواستیں داخل ہوئی تھیں، جو بعد میں بڑھ کر 1.73 لاکھ ہو گئیں۔ دعوے اور اعتراضات 28 ستمبر تک درج کیے جائیں گے۔
کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ نام ہٹانے کی درخواستیں معمولی غلطیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے خودکار طور پر تیار کی گئیں اور ریاست کے مختلف اضلاع میں ان کا استعمال منتخب انداز میں کیا گیا، جس سے اس کے ووٹروں کو نقصان ہو سکتا ہے۔
ای آر او نیٹ سافٹ ویئر میں ناموں میں معمولی فرق، بہن بھائیوں کی عمروں میں فرق، والدین اور بچوں کی عمروں میں فرق، اور والدین کے چھ سے زیادہ بچے ہونے جیسی صورتحال کو ’منطقی تضاد‘ کے طور پر نشان زد کیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ میں شفافیت کے کارکنان انجلی بھاردواج اور امریتا جوہری کی جانب سے دائر ایک پی آئی ایل میں بھی ایسے ’منطقی تضادات‘ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ عرضی دہلی میں ایس آئی آر کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام ہٹائے جانے سے متعلق ہے۔
ایسے معاملوں میں الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر(ای آر او)یا اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (اے ای آر او) الیکشن کمیشن کے آن لائن سسٹم پر ان ووٹروں کو ’نااہل‘ کے طور پر درج کرتے ہیں۔ اس کے بعد ان کے نام اور تفصیلات کو ووٹر لسٹ سے ہٹانے کے لیے فارم 7 خودکار طور پر تیار ہو جاتا ہے۔
اتراکھنڈ میں فارم 7 کی 85 فیصد سے زیادہ درخواستیں صرف چار اضلاع-ادھم سنگھ نگر، ہریدوار، دہرادون اور نینی تال-سے آئی ہیں۔ یہ اضلاع بنیادی طور پر میدانی علاقوں میں واقع ہیں اور ریاست کے زیادہ آبادی والے علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے نام ہٹائے جانے کے پیٹرن کے آبادیاتی اور جغرافیائی بنیادوں پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں کانگریس نے کہا ہے کہ نام ہٹانے کا عمل ان علاقوں میں زیادہ مرکوز ہے جہاں اس کا مضبوط ووٹر بیس ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق، ریاستی کانگریس کمیٹی کے سینئر نائب صدر اور اے آئی سی سی کے رکن سوریہ کانت دھسمانہ نے جمعرات کو کہا کہ صرف ادھم سنگھ نگر میں پانچ لوگوں نے 6,500 سے زیادہ اعتراضات داخل کیے ہیں۔
اخبار کے مطابق، سابق کانگریس ایم ایل اے منوج راوت نے فارم 7 کے ’سنگین غلط استعمال‘ کا الزام لگایا اور ایک ایسے معاملے کا ذکر کیا جس میں کانگریس کے ایم ایل اے فرقان احمد کے خلاف اسی نام کے ایک شخص کی جانب سے اعتراض داخل کیا گیا تھا۔ بعد میں اس شخص نے اعتراض داخل کرنے سے انکار کر دیا۔
اس سے پہلے انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا تھا کہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ان درخواستوں کی زیادہ تعداد کی بنیادی وجہ آبادی کی منتقلی اور ہجرت کو قرار دیا ہے۔ وہیں، کانگریس نے نام ہٹانے کے پیٹرن پر سوال اٹھائے ہیں۔
وہیں، انتخابی عہدیداروں نے کہا ہے کہ فارم 7 کے اعداد و شمار اس بات کی بنیاد پر مختلف ہو سکتے ہیں کہ ووٹر لسٹوں کی جانچ کتنی سرگرمی سے کی جاتی ہے۔ تاہم، سی ای او کے دفتر نے کہا ہے کہ ایس آئی آر کا عمل ’قواعد کے مطابق اور شفاف طریقے سے‘ انجام دیا جا رہا ہے۔

