صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ہفتے کو پولیس چیک پوسٹ پر ہوئے خودکش حملے میں پولیس اور محکمہ ایکسائز کے اہلکاروں سمیت 11 افراد جان سے گئے جبکہ 32 زخمی ہوئے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا کہ درازندہ کے علاقے امن میلہ کے قریب دھماکے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پولیس نے بتایا کہ خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی سڑک کنارے قائم پولیس چیک پوسٹ پر دھماکے سے اڑا دی جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے انڈیپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی درازندہ سے ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور امدادی کارروائی شروع کی۔
ان کے مطابق 11 لاشیں اور 32 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائی میں چھ ایمبولینسیں، ایک فائر وہیکل اور 25 سے زیادہ اہلکار شریک تھے، جبکہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی مزید ایمبولینسیں اور ریسکیو اہلکار درازندہ بھیجے گئے۔
ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے ترجمان ذوالقرنین یعقوب نے انڈیپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مرنے والوں میں 10 پولیس اور ایکسائز اہلکار شامل ہیں، جو چیک پوسٹ پر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔
ترجمان ذوالقرنین یعقوب کے مطابق حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرائی جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا۔ واقعے کے بعد فائرنگ بھی کی گئی۔
ڈی آئی خان میں سکیورٹی صورت حال
درازندہ ڈیرہ اسماعیل خان کے جنوبی حصے میں واقع ہے اور یہ ضلع ایسے خطے میں شامل ہے جہاں گذشتہ برسوں میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو مختلف حملوں کا سامنا رہا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع اور سابق قبائلی علاقوں سے متصل ہے جہاں سکیورٹی اداروں اور شدت پسند گروہوں کے درمیان کئی برس سے کشیدگی رہی ہے۔
درازندہ اور اس کے اطراف میں پولیس چوکیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
اسی وجہ سے علاقے میں قائم چیک پوسٹیں آمدورفت کی نگرانی اور سکیورٹی کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف حملوں کے ساتھ ساتھ پولیس کی کارروائیاں بھی جاری رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورت حال
درازندہ میں تازہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں پولیس، سکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات بدستور سامنے آ رہے ہیں۔
خصوصاً صوبے کے جنوبی اضلاع، جن میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت سکیورٹی کے حوالے سے حساس سمجھے جاتے ہیں۔
ان علاقوں میں پولیس اور سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کے باوجود وقفے وقفے سے حملے رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
جولائی 2026 میں ٹانک کے منجی خیل چیک پوسٹ پر حملے کے بعد گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں تیز کرنے اور سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے پر زور دیا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امن میلہ چیک پوسٹ کے واقعے کے بعد گورنر خیبر پختونخوا نے اعلیٰ حکام سے رپورٹ طلب کی اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے حملے کو ’فتنہ الہندوستان خوارج کی مذموم سازش‘ قرار دیا۔
وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے بھی دھماکے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جان سے جانے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔
انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کی پولیس، سکیورٹی فورسز اور عوام نے قربانیاں دی ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے جبکہ سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

