ٹرمپ کے تجاویز پر ردِعمل کے بعد ثالثوں کے ذریعے جواب کے منتظر ہیں: ایران

398720 258555237


ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو ایک بار پھر زور دیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کا حل صرف سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔

یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور لڑائی ختم کرنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کر دی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ’ہماری شرائط واضح ہیں اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی کوئی بھی پیش رفت ان شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے۔ صرف مذاکرات کے ذریعے حل ہی اس تعطل سے نکلنے کا راستہ فراہم کر سکتا ہے۔‘

نیویارک میں ایران نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امن کی ایک تجویز پیش کی تھی اور کہا تھا کہ قطری ثالثوں کے ذریعے یہ تجویز امریکی حکام تک پہنچا دی گئی ہے۔

تاہم ٹرمپ نے ہفتے کو کہا کہ انہوں نے یہ منصوبہ مسترد کر دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا کہ ایرانیوں کی جانب سے اہم آبی گزرگاہ کھولنے کے معاہدے کی کوشش کے پیچھے ان کی مایوسی کارفرما ہے۔

 

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ آبنائے ہرمز فوری طور پر کھولنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں بہت بری طرح نقصان ہو رہا ہے۔‘

عباس عراقچی کے مطابق ٹرمپ کے ان عوامی بیانات کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کرنے والے ثالثوں نے باضابطہ طور پر امریکی جانب سے ایرانی تجویز مسترد کیے جانے سے آگاہ نہیں کیا۔

عراقچی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’ہم ثالثوں کی جانب سے حتمی مؤقف پہنچائے جانے کا انتظار کر رہے ہیں، اور اس کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ نے تہران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایران کی اقتصادی ناکہ بندی کر دی ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر ایرانی حملے روکے جا سکیں، جن کی وجہ سے اس علاقے میں جہاز رانی میں انتہائی کمی آئی ہے، حالانکہ ٹرمپ بار بار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس آبی گزرگاہ پر امریکہ کا کنٹرول ہے۔ 

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے ہفتے کو نامعلوم امریکی عہدے داروں کا حوالہ دیتے ہوئے سب سے پہلے یہ خبر دی کہ ٹرمپ نے ایرانی تجویز مسترد کر دی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ نجی طور پر اس حوالے سے شکوک کا شکار تھے کہ ایران ان کے مطالبات پورے کرے گا، اور انہوں نے اپنے عملے کو بتایا تھا کہ انہیں نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد بمباری کی نئی مہم شروع ہونے کا امکان دکھائی دیتا ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے اس سے قبل کہا تھا کہ ثالثوں کے ذریعے ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت ’مثبت اور تعمیری‘ رہی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ