اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاسپورٹ رولز 2021 کی وہ شق کالعدم قرار دے دی ہے جس کے تحت حکومتی اداروں یا محکموں کی سفارش پر کسی شہری کا نام قانونی تحفظات فراہم کیے بغیر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) میں شامل کیا جا سکتا تھا۔
پی سی ایل ایک حکومتی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے افراد کو پاسپورٹ حاصل کرنے یا اس کی تجدید اور بیرون ملک سفر سے روکا جا سکتا ہے۔
پاسپورٹ رولز 2021 کے تحت حکومتی اداروں یا محکموں کی سفارش پر شہریوں کے نام اس فہرست میں شامل کیے جا سکتے تھے، جس پر حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقے شفافیت، قانونی طریقہ کار اور عدالتی نگرانی کے فقدان پر اعتراض کرتے رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق شہری معین الدین نے رواں سال اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ انہیں دسمبر 2025 میں عمرے کے لیے سعودی عرب جاتے ہوئے اسلام آباد ایئرپورٹ پر آف لوڈ کر دیا گیا تھا۔
معین الدین کے مطابق ان کے پاس درست پاکستانی پاسپورٹ، سعودی ویزا اور تصدیق شدہ ایئر ٹکٹ موجود تھا، تاہم انہیں سفر سے روکنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
جسٹس انعام امین منہاس نے قرار دیا کہ شہری کا پاسپورٹ نہ ضبط کیا گیا، نہ منسوخ یا غیر فعال کیا گیا اور نہ ہی پاسپورٹ کے اجرا یا تجدید سے انکار کیا گیا۔
عدالت کے مطابق معاملہ اس سوال سے متعلق تھا کہ آیا کسی حکومتی ادارے کو درست پاسپورٹ رکھنے والے شہری کو بیرون ملک سفر سے روکنے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عدالت نے ہفتے کو جاری تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ پاسپورٹ سے انکار اور سفر پر پابندی دو الگ اختیارات ہیں، جن کی قانونی بنیاد اور نتائج بھی مختلف ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دونوں اختیارات کو یکساں سمجھنا اس مفروضے کے مترادف ہوگا کہ کسی دستاویز کو روکنے کا اختیار شہری کی نقل و حرکت روکنے کا اختیار بھی فراہم کرتا ہے، تاہم قانون میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
پاسپورٹ رولز 2021 کے رول 22 کی ذیلی شق (2) کے تحت متعلقہ ڈویژن اور ڈائریکٹوریٹ جنرل کو پی سی ایل تیار اور برقرار رکھنی ہوتی ہے، جس میں ایسے افراد کے نام اور دیگر ریکارڈ شامل کیے جاتے ہیں جنہیں ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے یا ریاستی مفاد کے منافی بیرون ملک سفر تصور کیے جانے، یا سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بیرون ملک جانے سے روکا گیا ہو۔
عدالت نے پاسپورٹ رولز 2021 کے رول 22 کی ذیلی شق (2) کی شق (b) کے دوسرے حصے کو، جس کے تحت حکومتی اداروں یا محکموں کی سفارش پر افراد کے نام پی سی ایل میں شامل کیے جا سکتے تھے، پاسپورٹس ایکٹ 1974 اور آئین 1973 سے متصادم اور قانونی حیثیت سے محروم قرار دے دیا۔
پاسپورٹ رولز 2021 کے مطابق کسی شخص کا نام عام طور پر پانچ سال تک پی سی ایل میں برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
تاہم متعلقہ محکمہ یا ادارہ مکمل جواز کے ساتھ مزید مدت کے لیے نام برقرار رکھنے کی سفارش کرے تو پانچ سال سے زائد عرصے تک بھی نام پی سی ایل میں رکھا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق معین الدین کا نام دسمبر 2024 میں نیشنل سینٹرل بیورو، انٹرپول کی سفارش پر پی سی ایل میں شامل کیا گیا تھا، جسے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے آگے بھیجا تھا۔ یہ کارروائی برطانیہ سے ان کی ملک بدری کے بعد کی گئی، جہاں انہیں خطرناک ڈرائیونگ کے نتیجے میں موت کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ وہ تین سال قید کی سزا مکمل کر چکے تھے۔

