غزہ میں اسقاط حمل میں تشویشناک اضافہ، تولیدی بحران کا خطرہ

ma 230626 d


غزہ کے صحت حکام نے خبردار کیا ہے کہ جاری جنگ کے باعث تولیدی صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے
غزہ — غزہ کے صحت حکام نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں اسقاطِ حمل کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جس سے تولیدی بحران کا واضح خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ شرحِ پیدائش میں تیزی سے کمی، زچگی کی صحت کی بگڑتی صورتحال اور دماغی صحت کے متاثرین کی بڑھتی تعداد نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
غزہ میں وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البورش کے مطابق اپریل ۲۰۲۶ء میں اسقاطِ حمل کی شرح بڑھ کر ۴۶۰ فی ہزار زندہ پیدائش تک پہنچ گئی، جو عالمی اوسط سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ اشاریے بتاتے ہیں کہ یہ شرح اب ۵۰۰ فی ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
شرحِ پیدائش کے اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہیں۔ نومبر ۲۰۲۵ء میں ماہانہ پیدائشوں کی تعداد ۶۰۷۶ تھی جو اپریل ۲۰۲۶ء میں گھٹ کر صرف ۲۰۰۴ رہ گئی، یعنی چند مہینوں میں ۶۷ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
وجوہات کیا ہیں؟
ڈاکٹر البورش نے اس بحران کی بنیادی وجوہات میں جاری تشدد، بڑے پیمانے پر بے دخلی اور طبی بنیادی ڈھانچے کی تباہی کو قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ غذائی قلت، آلودہ پانی، خوراک کا عدم تحفظ اور مسلسل نفسیاتی دباؤ بھی اہم عوامل میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ۵۷ فیصد حاملہ خواتین خون کی کمی یعنی انیمیا کا شکار ہیں، جس کے باعث جنین کو نشوونما کے لیے ضروری آکسیجن اور غذائی اجزاء نہیں مل پاتے اور اسقاطِ حمل کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ زچگی کی صحت کی خدمات تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں۔
آگے کیا؟
صحت ماہرین کے مطابق غزہ کی صورتحال اب محض صحت اور انسانی ہمدردی کی ہنگامی صورتحال سے آگے بڑھ کر فلسطینی عوام کے تولیدی مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ جنگ کے اثرات فوری ہلاکتوں سے بڑھ کر آنے والی نسلوں کی پیدائش اور بقا کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ