بھارت میں ٹریفک جرمانوں ای چالان کو بجلی کے بلوں میں شامل کرنے کی تجویز

news 1790615009 3460



news 1790615009 3460

(24 نیوز) بھارتی سپریم کورٹ نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد کیے گئے جرمانوں اور ای چالان کو شہریوں کے بجلی کے بلوں میں شامل کرنے کی تجویز دے دی۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس جے بی پاردی والا نے کیس کی سماعت کے دوران  ریمارکس دیے کہ اگر لوگ ٹریفک چالان ادا نہیں کرتے تو جرمانے کی رقم دیگر سرکاری واجبات کے ساتھ وصول کرنے کے طریقوں پر غور کیا جاسکتا ہے، حتیٰ کہ اسے بجلی کے بل میں شامل کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آسکتی ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ بھارتی ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز میں تقریباً 45 ہزار کروڑ بھارتی روپے کے ای-چالان واجب الادا ہیں، جن میں سے تقریباً 25 ہزار کروڑ روپے وصول کیے جاچکے ہیں۔

جسٹس پاردی والا نے کہا کہ پولیس ہزاروں بلکہ لاکھوں ای-چالان جاری کرسکتی ہے، لیکن اصل مسئلہ ان جرمانوں کی رقم کی وصولی ہے، اس لیے حکام کو زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر طریقہ کار وضع کرنا ہوگا۔

سپریم کورٹ میں زیرِ غور تجاویز کے مطابق زیرِ التوا چالان رکھنے والی گاڑیوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی تجدید روکنے پر غور کیا جاسکتا ہے،ایسی گاڑیوں کے ڈپلیکیٹ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے اجرا اور گاڑی کی ملکیت کی منتقلی روکنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔

عدالت نے گاڑی کا فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے قبل تمام زیرِ التوا چالان کلیئر کرنے کی شرط، ایسی گاڑیوں کو پورٹل پر بلیک لسٹ کرنے اور ان سے منسلک ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید روکنے سمیت دیگر اقدامات پر بھی غور کیا۔

اس کے علاوہ پہلے سے جاری ڈرائیونگ لائسنس معطل کرنے، زیرِ التوا چالان والی گاڑیوں کو پی یو سی سرٹیفکیٹ جاری نہ کرنے، گاڑیوں کی اچانک چیکنگ اور ضرورت پڑنے پر ایسی گاڑیاں ضبط کرنے کی تجاویز بھی زیرِ بحث آئیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ بجلی کے بل میں ٹریفک چالان شامل کرنے کی بات سماعت کے دوران ایک تجویز کے طور پر کی گئی تھی، اسے نافذ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :ہزاروں افراد کی بیک وقت بار بی کیو پارٹی





Source link

متعلقہ پوسٹ