امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو خبر رساں ادارے ایکسیوس کی اس رپورٹ کی تردید کردی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے طول پکڑنے کے دوران انہوں نے ایران کو پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثے جاری کرنے کی پیشکش کی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا: ’ایکسیوس نے ابھی ایک خبر جاری کی ہے کہ ’ٹرمپ‘ نے ایران کو پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں (جو جاری کرنے) کی پیشکش کی۔ یہ غلط ہے۔ میں نے انہیں کچھ بھی پیش نہیں کیا۔ ‘
ایکسیوس کی رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ٹرمپ ’ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران کی جانب سے ٹھوس اقدامات کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہیں۔‘
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خبر کو ’جھوٹا پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خبر رساں ادارے کو اسے واپس لینا چاہیے۔
یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی پیر کو نیویارک میں قطری ثالثوں سے ملاقات متوقع تھی۔
پاکستان اور قطر ایران جنگ کے بعد سے دونوں فریقین کے درمیان پیغام رسانی اور ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں جب کہ اسلام آباد مفاہمتی یاداشت کے تحت امریکہ اور ایران نے عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
اس سے قبل امریکی اور ایرانی حکام نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر نیویارک میں ملاقات کی تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے پیر کو رپورٹ کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مزید براہِ راست مذاکرات طے نہیں ہیں۔
ہفتے کے روز ٹرمپ نے تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔
اتوار کو ٹرمپ نے ایکسیوس کو بتایا کہ انہیں توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔
اہم آبنائے ہرمز اس تنازع کے مرکز میں واقع ہے۔ یہ تنگ آبی گزرگاہ معمول کے حالات میں دنیا کے پانچویں حصے کے تیل اور مائع گیس کی ترسیل کا راستہ ہے۔
28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے تہران نے اس راستے کی آمدورفت کو مؤثر طور پر روک رکھا ہے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ میں گیس اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ ٹرمپ کو قومی سطح پر ہونے والے رائے عامہ کے جائزوں میں گرتی ہوئی مقبولیت کا سامنا ہے اور ان کی جماعت کو خدشہ ہے کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں وہ کانگریس میں اپنی اکثریت سے محروم ہو سکتی ہے۔

