دہلی-این سی آر میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے بڑھتے معاملے

Girl Woman Illustration Pariplab The Wire 1


دہلی-این سی آر میں حالیہ دنوں میں نابالغوں کے خلاف جنسی تشدد اور قتل کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ گریٹر نوئیڈا کی سلیپر بس میں 16 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ سے لے کر غازی آباد میں 13 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ اور چھ سالہ بچی کے قتل جیسے واقعات قومی دارالحکومت کے علاقے میں بچوں کے تحفظ اور موجودہ نظام کی کارکردگی  پر سنگین سوال اٹھاتے ہیں۔

Girl Woman Illustration Pariplab The Wire 1

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

نئی دہلی: دہلی-این سی آر میں حالیہ دنوں میں نابالغوں کے ساتھ ریپ،جنسی ہراسانی اور قتل کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ گریٹر نوئیڈا کی سلیپر بس میں 16 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ سے لے کر غازی آباد میں 13 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ اور چھ سالہ بچی کے قتل تک کے واقعات نے بچوں کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، گریٹر نوئیڈا میں 4 اگست کو 16 سالہ  بچئ کے ساتھ سلیپر بس میں مبینہ گینگ ریپ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پڑھائی کے حوالے سے ماں کی ڈانٹ کے بعد گھر سے نکلی لڑکی تیز بارش اور اندھیرے میں راستہ بھٹک گئی تھی۔ وہ پری چوک کے قریب ایک خالی سلیپر بس میں سوار ہوئی، جہاں ڈرائیور اور کنڈکٹر نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ ریپ کیا۔ دونوں ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور بس کو فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

اسی دوران گریٹر نوئیڈا میں چھ سالہ بچی کے قتل کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ یہاں 28 اگست کو ہلدونی گاؤں سے لاپتہ ہوئی بچی کی لاش بعد میں ایک بوری میں ملی۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر ایک شخص کو ملزم بنایا۔ اہل خانہ نے بچی کے ساتھ جنسی تشدد کے بعد قتل کا الزام لگایا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ذریعے اس کی تصدیق کی جا رہی تھی۔

پولیس کے مطابق، ملزم کو جائے وقوعہ پر لے جانے کے دوران اس نے پولیس پر گولی چلانے کی کوشش کی، جس کے بعد ہونے والی مڈبھیڑ میں اس کی موت ہوگئی۔

اسی کڑی میں غازی آباد کے ویو سٹی علاقے میں بھی 13 سالہ ساتویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ  کا معاملہ سامنے آیا۔ پولیس نے بتایا کہ لڑکی کو تین لڑکے ایک خالی مکان میں لے گئے، جہاں اس کے ساتھ جنسی تشدد کیا گیا۔ ملزمین میں سے دو نابالغ ہیں۔ اس معاملے نے بچوں میں بڑھتے ہوئے جنسی تشدد اور نوعمروں کے درمیان جرائم کے اثرات کے حوالے سے سوال کھڑے کیے ہیں۔

دہلی میں بھی بچوں کے خلاف جنسی  جرائم کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ 21 اگست کو بھجن پورہ میں سات سالہ بچی کے مبینہ جنسی  ہراسانی کے معاملے میں پاکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

وہیں، دہلی کے بیرونی علاقے بوانا میں تین سالہ بچی کے مبینہ جنسی ہراسانی کے الزام میں ایک نجی اسکول کے کیب ڈرائیور کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک نابالغ لڑکی کی فرضی فحش تصویر اے آئی کی مدد سے تیار کرکے اس سے تقریباً 1.2 لاکھ روپے وصول کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔

این سی آر بی کے اعداد و شمار بڑے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں

ان واقعات کے درمیان نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار بھی تشویش میں اضافہ کرتے ہیں۔ 2024 میں دہلی میں بچوں کے خلاف جرائم کے 7,662 معاملے درج ہوئے۔ جرائم کی شرح فی ایک لاکھ بچوں کی آبادی پر 138.4 رہی، جو قومی سطح کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔

ملک بھر میں بچوں کے خلاف جرائم کے معاملات میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ این سی آر بی کے مطابق، 2020 میں 1,28,531 معاملے درج ہوئے تھے، جو 2024 میں بڑھ کر 1,87,702 ہو گئے۔ یعنی چار برسوں میں ایسے معاملات میں تقریباً 46 فیصد اضافہ ہوا۔

اسی طرح 2023 میں دہلی میں بچوں کے خلاف جرائم کے 7,769 مقدمات درج ہوئے تھے۔ این سی آر بی کی وسیع درجہ بندی کے مطابق، ان میں 1,757 پاکسو کے معاملے شامل تھے۔

سال 2024 میں دہلی میں بچوں کے خلاف سائبر جرائم کے 151 معاملے بھی درج ہوئے۔ ملک بھر میں ایسے 1,238 معاملے درج ہوئے تھے، جن میں بڑی تعداد بچوں کو ظاہر کرنے والے جنسی طور پر واضح مواد کی اشاعت یا ترسیل سے متعلق تھی۔

قوانین سخت ہوئے، لیکن تحفظ کا سوال برقرار

غور طلب ہے کہ 2012 کے دہلی کے نربھیا معاملےکے بعد جنسی جرائم کے خلاف قوانین کو مزید سخت کیا گیا۔ پاکسو قانون نے بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے لیے ایک علیحدہ قانونی ڈھانچہ بھی قائم کیا۔ اس کے باوجود حالیہ واقعات بتاتے ہیں کہ چیلنج صرف جرم کے بعد گرفتاری اور سزا تک محدود نہیں ہے۔

عوامی اور اسکول ٹرانسپورٹ کی نگرانی، بچوں کے لاپتہ ہونے پر فوری کارروائی، محفوظ عوامی مقامات اور متاثرہ بچوں کو بروقت طبی و قانونی امداد-ان تمام محاذوں پر نظام کی کارکردگی اہم ہے۔ ایسے میں دہلی-این سی آر کے حالیہ واقعات ایک بنیادی سوال چھوڑتے ہیں کہ کیا بچوں کے تحفظ کا موجودہ نظام جرم ہونے کے بعد کارروائی کرنے سے آگے بڑھ کر اسے روکنے کا بھی اہل ہے؟





Source link

متعلقہ پوسٹ