پاکستانی وزیر داخلہ کی تہران آمد، اہم معاملات پر بات چیت متوقع، حکام

398607 1656028512


ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی پیر کو تہران پہنچے ہیں۔

اس سے قبل ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق حکام نے کہا ہے کہ وہ اس دورے کے دوران اعلٰی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

وہ یہ دورہ ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں شروع کیے جانے کے بعد سے محسن نقوی متعدد مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں۔

11 اگست کو اپنے دورے کے دوران محسن نقوی نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل محسن رضائی، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کی تھیں۔

فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی لڑائی کے بعد تہران نے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز پر سخت گرفت برقرار رکھی ہوئی ہے، جو دنیا کے تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم بحری راستہ ہے جبکہ واشنگٹن ایران کی بندرگاہوں اور معیشت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایران نے حملوں کے جواب میں خطے کے ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ شہری اور اقتصادی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ایران کے اتحادی یمن کے حوثیوں نے بھی رواں ماہ جنوبی سعودی عرب پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملے کیے، جن میں درجنوں افراد زخمی ہوئے، توانائی سے متعلق تنصیبات کو نقصان پہنچا اور وسیع تر تنازع میں ایک اور محاذ کھل گیا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ’پاکستانی وزیر داخلہ تہران میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر بات چیت کریں گے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ پیش رفت ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنی شرائط سے آگاہ کر دیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، جو جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں ایران کے چیف مذاکرات کار کا کردار ادا کر رہے ہیں، نے کہا کہ ’ہم نے ثالثوں کے ذریعے اپنے پیغامات اور اپنی شرائط کی وضاحت دوسرے فریق تک واضح طور پر پہنچا دی ہے۔‘

پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد نے دونوں فریقوں کے درمیان نادر براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی اور جون میں ایک عبوری امن معاہدے تک پہنچنے میں بھی کردار ادا کیا۔

تاہم یہ امن معاہدہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا اور دونوں جانب سے مشرق وسطیٰ میں ایک دوسرے کے خلاف حملے دوبارہ شروع ہوگئے۔

اسلام آباد بارہا امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کی بحالی پر زور دے چکا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ کئی ماہ سے جاری تنازع کے حل کا واحد راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ