موسمیاتی تبدیلی کا بحران اب صرف گلیشیئرز کے پگھلنے، جنگلات کی آگ، شدید گرمی یا سیلاب تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات انسانوں کی ذہنی صحت پر بھی تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں۔ عالمی تحقیقات کے مطابق دنیا بھر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مستقبل کے حوالے سے خوف، بے بسی اور مایوسی کا شکار ہے۔ ماہرینِ نفسیات اس کیفیت کو ’’ایکو اینگزائٹی‘‘ (Eco-Anxiety) کا نام دیتے ہیں، یعنی موسمیاتی بحران اور بڑھتی قدرتی آفات کے پیشِ نظر مستقبل سے متعلق مسلسل خدشات کے باعث پیدا ہونے والا جذباتی دباؤ اور ذہنی بے چینی۔
معروف طبی جریدے The Lancet Planetary Health میں شائع ہونے والی ایک بین الاقوامی تحقیق، جس میں ۱۰ ممالک کے ۱۶ سے ۲۵ سال عمر کے ۱۰ ہزار نوجوانوں کو شامل کیا گیا، اس مسئلے کی سنگینی واضح کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۵۹ فیصد نوجوان موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں ’’بہت زیادہ‘‘ یا ’’انتہائی زیادہ‘‘ فکرمند ہیں، جبکہ ۷۵ فیصد نے کہا کہ مستقبل انہیں خوفناک دکھائی دیتا ہے۔ ۴۵ فیصد نوجوانوں نے اعتراف کیا کہ یہ خدشات ان کی روزمرہ زندگی، تعلیم، کام اور تعلقات پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ بعض نوجوانوں نے تو شادی اور بچے پیدا کرنے جیسے فیصلوں پر بھی نظرثانی کا اظہار کیا۔
ماہرین کے مطابق جو افراد براہِ راست قدرتی آفات جیسے جنگلات کی آگ، سیلاب یا سمندری طوفان کا سامنا کرتے ہیں، ان میں یہ کیفیت زیادہ شدید ہوتی ہے اور اضطراب، ڈپریشن اور PTSD کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم صرف متاثرہ علاقوں کے باسی ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر مسلسل منفی خبریں دیکھنے والے افراد بھی اس کیفیت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن اور یونیسیف نے بھی خبردار کیا ہے کہ بچے اور نوجوان اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ مستند معلومات حاصل کی جائیں، منفی خبروں سے وقفہ لیا جائے، فطرت سے تعلق مضبوط رکھا جائے اور اجتماعی رضاکارانہ اقدامات میں حصہ لیا جائے تاکہ بے بسی کے احساس میں کمی آئے۔
اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ موسمیاتی حکمتِ عملی میں ذہنی صحت کو بھی شامل کیا جائے، ورنہ آنے والے برسوں میں ایک خاموش مگر سنگین نفسیاتی بحران جنم لے سکتا ہے۔

