اسپین کے وزیرِ خارجہ خوزے مانوئل الباریس نے جمعہ کو اعلان کیا کہ سیوٹا میں داخل ہونے والے تقریباً تمام تارکینِ وطن مراکش واپس لوٹ چکے ہیں۔ انہوں نے شینگن ایریا کی سالمیت مکمل طور پر برقرار رکھنے کا یقین دلایا اور تارکینِ وطن کے حوالے سے غلط معلومات پھیلانے کے خلاف متنبہ کیا۔ الباریس نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر لکھا: ’’پولیس چیک پوسٹ پر شناخت کرائے بغیر سیوٹا اور میلیلا سے سرزمینِ اسپین کا سفر ممکن نہیں ہے۔ شینگن ایریا کی سالمیت مکمل طور پر یقینی بنائی گئی ہے۔ جان بوجھ کر پھیلائی جانے والی غلط معلومات بند کرو۔‘‘
اس سے قبل اسپین کی نیوز ایجنسی ای ایف ای نے اطلاع دی تھی کہ جمعہ کی دوپہر سینکڑوں تارکینِ وطن مراکش واپس جانے کے لیے سرحد کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس کی وجہ اسپین اور مراکش کے درمیان طے پانے والا واپسی کا معاہدہ، اور سیوٹا میں بنیادی ضروریات جیسے دکانوں، سپر مارکیٹوں اور ریستورانوں کی عدم دستیابی بتائی گئی۔
مزید برآں، اسپین کی سول گارڈ اور فوج کے ریگولریز گروپ نمبر ۵۴ کو تراخال ساحلی علاقے میں تعینات کیا گیا تاکہ سمندر کے راستے مزید آمد کو روکا جا سکے۔ اسپینی حکام کے مطابق، اس نقل مکانی کے بحران میں اب تک کم از کم ۵۷ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اسپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے جمعہ کو جمعرات سے سیوٹا میں تارکینِ وطن کی بڑے پیمانے پر آمد کو ’’حملہ‘‘ اور ’’اسپین کی سرحدی سالمیت کی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا تھا اور جتنی جلد ممکن ہو حالات کو معمول پر لانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
واضح رہے کہ مراکش سے بحری راستوں کے ذریعے بہتر روزگار کی تلاش میں ہر سال ہزاروں افراد غیر قانونی طور پر اسپین میں داخل ہوتے ہیں، جبکہ اس کوشش میں کئی تارکینِ وطن بحری حادثات کا شکار ہو کر جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ اسپین نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سرحد پر تاروں کی باڑ اور دیوار کھڑی کر رکھی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسی مقام پر ۵۰ سے زائد مراکشی تارکینِ وطن ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد اسپین کی حکومت نے بڑے پیمانے پر غیر قانونی تارکینِ وطن کو واپس مراکش بھیجنے کا عمل شروع کیا تھا، جس کی تکمیل کا وزیرِ خارجہ نے اعلان کیا۔

