غیر سرکاری تنظیم ’انصار برنی ٹرسٹ‘ نے منگل کو بتایا کہ صومالیہ میں قزاقوں کے قبضے میں ایک بحری جہاز کے یرغمال عملے کو ریسکیو کرنے کے آپریشن کے دوران تین پاکستانیوں سمیت پانچ یرغمالی جان سے گئے۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اموات کی تصدیق کر رہی ہے۔
انصار برنی ٹرسٹ کی وکیل قرۃ العین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ٹرسٹ کا ایک یرغمالی حسین یوسف سے رابطہ ہوا، ان کے مطابق صومالی حکومت کے اشتراک سے عملے کو ریسکیو کرنے کی کوشش کی گئی۔
تاہم اس دوران قزاقوں نے یرغمالیوں کو مبینہ طور پر نقصان پہنچایا گیا۔
قرۃ العین کے مطابق آپریشن کے دوران تین پاکستانیوں کاشف عمر، محمود انصاری اور رفیع اللہ خان سمیت پانچ افراد جان سے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے میں چار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں تین پاکستانی عثمان، عقیل، امین اور ایک انڈونیشین شہری شامل ہے۔
قرۃ العین کے مطابق حسین یوسف پیشے کے اعتبار سے انجینیئر ہیں اور ان سے اس واقعے کے حوالے سے رابطہ ہوا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن صومالی حکومت نے کیا۔
Puntland Maritime Police Force (PMPF) carried out a maritime operation off the coast of Dharin-baar, Bandar Beyla District, successfully rescuing the MT HONOUR 25 oil tanker, which had been hijacked by pirates. pic.twitter.com/5Q15CgIBkr
— Puntland Maritime Police Force (@PMPFOfficial) September 29, 2026
ترجمان دفتر خارجہ سجاد علی خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کئی ماہ قبل پنٹ لینڈ میں بحری قذاقوں کے ہاتھوں اغوا کیے گئے ایک جہاز کی رہائی سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس پر مبینہ طور پر 10 پاکستانی شہری یرغمال بنائے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستانی شہریوں میں مارے جانے والوں سے متعلق اطلاعات کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔‘
’مشن حقائق جاننے اور صورت حال کی تصدیق کے لیے متعلقہ حکام سے قریبی رابطے میں ہے، سرکاری تصدیق ملتے ہی مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔‘
’شوہر کی صحت کے حوالے سے شدید فکرمند ہوں‘
زخمی یاسر خان کی اہلیہ مہوش نے بتایا کہ ان کے شوہر کو ٹانگ میں گولی لگی ہے جبکہ ایک گولی ان کے کندھے کو چھوتی ہوئی گزری ہے۔
مہوش کے مطابق انہیں اپنے شوہر کی موجودہ حالت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل رہیں اور وہ شدید فکرمند ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ امین نامی ایک شخص بھی زخمی ہے جبکہ حسین یوسف، یاسین اور عمران علی کے خیریت سے ہونے کی اطلاع ہے۔
تاہم انہیں دیگر افراد کے بارے میں مکمل معلومات نہیں۔ مہوش کے مطابق کاشف عمر، سیکنڈ آفیسر رفیع اللہ اور تھرڈ انجینیئر محمود احمد انصاری کی اموات کی اطلاع انہیں ملی ہے۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ واقعے کے وقت حکومت کی جانب سے اہل خانہ سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق انصار برنی ٹرسٹ کی جانب سے ایک مرتبہ رابطہ کیا گیا اور انہیں پاکستانی شہریوں کی اموات کی تصدیق ہوئی۔
مہوش نے حکومت کی جانب سے ریسکیو کی کوششوں کے دعوے پر بھی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہل خانہ کو بروقت معلومات اور مدد فراہم کی جانی چاہیے تھی۔
دوسری جانب صومالیہ کے ایک نیوز ادارے نے رپورٹ کیا کہ پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
قرۃ العین کے مطابق جس جہاز کے ذریعے عملے کو ریسکیو کرنے کی کوشش کی گئی، وہی جہاز انہیں ٹو کر کے قریبی ساحل تک لے جا رہا ہے، جہاں پہنچنے میں تقریباً تین دن لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ زخمی افراد کی حالت خراب ہونے کے باعث انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے اور وہاں سے ایئر ایمبولینس یا ہیلی کاپٹر بھیجنے کی درخواست کی گئی ہے۔
اس سے قبل پاکستان نے منگل کو کہا کہ وہ ان اطلاعات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود ایک ٹینکر کو چھوڑ دیا گیا ہے۔
پلاؤ کے پرچم بردار ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو 21 اپریل کو صومالیہ کے شمال مشرقی علاقے پنٹ لینڈ کے قریب سے قبضے میں لیا گیا تھا۔
اس پر 17 افراد سوار تھے، جن میں 10 پاکستانی سیلرز بھی شامل تھے۔
ان کے اہل خانہ پانچ ماہ سے زائد عرصے سے اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور ان کی رہائی کی اپیلیں کر رہے تھے۔
پنٹ لینڈ صومالیہ کا ایک نیم خودمختار علاقہ ہے، جہاں میری ٹائم پولیس نے قزاقوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔
رواں سال صومالیہ اور خلیج عدن کے اطراف قزاقوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگست میں بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن نے کہا تھا کہ خطے میں 90 سے زیادہ ملاح قید ہیں اور خبردار کیا تھا کہ ان میں سے بعض کو مناسب خوراک، پانی اور طبی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔

