کھانے میں نمک کی مقدار ذائقے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے بھی اہم ہے، تاہم زیادہ سوڈیم کا استعمال صحت کے مختلف مسائل سے منسلک کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے عام سفید نمک کے علاوہ کالا اور گلابی نمک بھی لوگوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔
کالا نمک برصغیر کے کھانوں میں طویل عرصے سے استعمال ہوتا آرہا ہے اور اسے عموماً سکنجبین، مالٹے کے رس اور مختلف کھانوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں متعدد صحت بخش فوائد بیان کیے جاتے ہیں، تاہم اسے کسی بیماری کا علاج سمجھنے کے بجائے متوازن غذا کا حصہ سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔
کالے نمک کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ نظامِ ہاضمہ کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔ بعض روایتی استعمالات میں اسے جگر میں بائل کی پیداوار اور آنتوں میں جذب کے عمل کو بہتر بنانے سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
اس میں موجود پوٹاشیم کو پٹھوں کی کارکردگی کے لیے اہم معدنی جزو سمجھا جاتا ہے، اسی لیے کالے نمک کے استعمال کو بعض اوقات پٹھوں کی صحت اور درد میں کمی سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔
کالے نمک میں سوڈیم کے علاوہ مختلف معدنی اجزا کی معمولی مقدار موجود ہوسکتی ہے، جن میں آئرن، میگنیشیم اور کیلشیم شامل ہیں۔ تاہم اس بنیاد پر اسے ان معدنیات کا بڑا غذائی ذریعہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
بلڈ پریشر کے حوالے سے بھی نمک کی مجموعی مقدار پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ فراہم کردہ معلومات میں ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے روزانہ 3.75 گرام سے زیادہ کالا نمک استعمال نہ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم ایسے افراد کے لیے نمک کی مناسب مقدار ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت کی ہدایت کے مطابق طے کرنا زیادہ محفوظ ہے۔
کالے نمک کو سینے کی جلن، تیزابیت، ریفلکس اور جسم میں سوزش جیسے مسائل میں بھی مفید قرار دیا جاتا ہے، جبکہ وزن کم کرنے کے لیے بھی اس کے استعمال کے دعوے سامنے آتے ہیں۔ تاہم صرف کالا نمک وزن کم کرنے یا ریفلکس ختم کرنے کا ثابت شدہ علاج نہیں ہے اور اس کے استعمال کو متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
قبض کے لیے روایتی طور پر کالے نمک کو ادرک اور لیموں کے رس کے ساتھ استعمال کرنے کا طریقہ بھی بتایا جاتا ہے۔ اسی طرح جلد کی نگہداشت کے حوالے سے نیم گرم پانی میں کالا نمک ملا کر جلد پر لگانے کو روکھی اور بے رونق جلد کے لیے مفید قرار دیا جاتا ہے، تاہم حساس جلد والے افراد کو ایسے گھریلو تجربات میں احتیاط کرنی چاہیے۔
Source link

