بیجنگ، چین نے مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر شعبے کی اہم نجی کمپنیوں کے ایگزیکٹوز، بانیوں اور سینئر محققین کے شریکِ حیات اور بچوں کے بیرونِ ملک سفر پر بھی سرکاری اجازت لازمی کر دی ہے۔ بلومبرگ اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق اس کا مقصد حساس ٹیکنالوجی اور مہارت کو ملک سے باہر جانے سے روکنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مختصر دورے بھی اس میں شامل ہیں۔
مئی میں چین نے علی بابا اور ڈیپ سیک سے وابستہ اے آئی پیشہ ور افراد سمیت بعض اہم ٹیک ملازمین پر سفری پابندیاں لگائی تھیں۔ یہ واضح نہیں کہ نئی پابندی تمام رشتہ داروں پر لاگو ہے یا صرف قریبی اہلِ خانہ پر۔ اس کے علاوہ ۱۵؍ ستمبر سے نافذ نئے ایگزٹ اینڈ انٹری قوانین کے تحت حکام صنعتی یا تکنیکی سلامتی کو خطرہ سمجھے جانے والے معاملات میں شہریوں کو ملک چھوڑنے سے روک سکتے ہیں۔ چین کی اسٹیٹ کونسل نے ان ضوابط کو قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا تحفظ قرار دیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مارچ میں اے آئی اسٹارٹ اپ Manus کے شریک بانیوں کو بھی ملک سے باہر جانے سے روکا گیا تھا، جب میٹا اسے خریدنے کے لیے بات چیت کر رہی تھی؛ بعد میں چینی حکومت نے یہ ڈیل روک دی۔ دوسری جانب چینی کمپنیاں اے آئی اور جدید چپس میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہیں، اور علی بابا نے اپنی Zhenwu V900 اے آئی چپ متعارف کرائی ہے جس کا مقصد غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنا ہے۔ یہ اقدامات مکمل سفری پابندی نہیں، مگر ٹیک پیشہ ور افراد اور ان کے خاندانوں کے لیے ریاستی منظوری کی ایک نئی تہہ ضرور ہیں۔

