ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مسلح افواج کی مجموعی مجاز تعداد بڑھانے کا صدارتی فرمان جاری کر دیا ہے۔ اس کے بعد روسی فوج کی کل مجاز تعداد 24 لاکھ 41 ہزار 630 ہو گئی ہے۔
سرکاری قانونی معلومات کے پورٹل پر شائع دستاویز کے مطابق فرمان پر پیر کو دستخط کیے گئے۔ اس میں 15 ہزار 500 فعال فوجیوں کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے فعال اہلکاروں کی تعداد 15 لاکھ 50 ہزار 500 ہو گئی ہے۔ باقی تعداد سویلین عملے اور معاون محکموں کے اہلکاروں پر مشتمل ہے۔
حکم نامے میں حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ منظور شدہ تعداد برقرار رکھنے کے لیے وزارتِ دفاع کو وفاقی بجٹ سے مطلوبہ فنڈز فراہم کرے۔
اس سے قبل جولائی میں بھی پوتن نے فوج کی تعداد بڑھا کر 24 لاکھ 26 ہزار 130 کی تھی، جس میں 15 لاکھ 35 ہزار فعال اہلکار شامل تھے۔
مبصرین کے مطابق تعداد میں مسلسل اضافہ یوکرین جنگ کے تناظر میں کریملن کی طویل مدتی عسکری تیاریوں کی علامت ہے۔ روسی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام ملکی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضروری ہے، جبکہ مغربی ممالک اسے خطے میں کشیدگی بڑھانے والا قدم قرار دیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں روس نے بھرتی کا عمل تیز کیا ہے اور کنٹریکٹ بیس سروس کو فروغ دیا ہے۔

