واشنگٹن: امریکی ریاست ٹینیسی میں 50 سالہ کرسٹا پائیک کو بدھ کو سزائے موت دیے جانے کا امکان ہے۔ اگر سزا پر عمل ہوا تو 1820 کے بعد ریاست میں یہ پہلی خاتون کو دی جانے والی سزائے موت ہو گی۔ پائیک کو 1995 میں اپنی 19 سالہ ہم جماعت کولین سلیمر کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس وقت اس کی عمر 18 سال تھی۔
استغاثہ کے مطابق پائیک کو خدشہ تھا کہ سلیمر محبت میں اس کی حریف ہے۔ وہ اسے ایک سنسان مقام پر لے گئی، جہاں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر اسے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا۔ دونوں ناکس وِل جاب کورپس میں سلیمر کے ہم جماعت تھے۔ اس مقدمے کو قتل کی سفاکیت اور ملزمان و مقتولہ کی کم عمری کے باعث وسیع توجہ ملی۔
پائیک جرم سے انکار نہیں کرتی، تاہم اس کے وکلا کا کہنا ہے کہ 18 سال کی عمر کے جرم پر سزائے موت مناسب نہیں۔ ان کے مطابق وہ بچپن میں جنسی زیادتی اور نظرانداز کیے جانے کا شکار رہی، جبکہ بعد میں اس میں بائی پولر ڈس آرڈر اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کی تشخیص ہوئی۔ اسسٹنٹ فیڈرل ڈیفینڈر اسٹیفن فیرل کے مطابق سزا کے مرحلے میں یہ اہم معلومات جیوری کے سامنے پیش نہیں کی گئیں۔ پائیک نے اپنی درخواست میں کہا کہ وہ ذہنی بیماری میں مبتلا 18 سالہ لڑکی تھی اور اسے یہ سمجھنے میں کئی سال لگے کہ اس نے کیا کیا۔
اس کے بوائے فرینڈ تادارل شپ کی عمر جرم کے وقت 17 سال تھی، اس لیے اسے پیرول کی گنجائش کے ساتھ عمر قید ملی، اور گزشتہ سال اس کی پیرول درخواست مسترد ہوئی۔ ایک تیسرے نوجوان نے معاونت کا اعتراف کیا اور پروبیشن پر رہا ہوا۔
ٹینیسی کے گورنر بل لی نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ سزا معاف نہیں کریں گے۔ پائیک کے وکلا نے سپریم کورٹ سے عارضی حکمِ امتناع کی درخواست کی ہے۔ ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر رابن ایم مہر نے کہا کہ اگر آج مقدمہ چلتا اور جیوری کو بچپن کے شواہد معلوم ہوتے تو انہیں یقین نہیں کہ وہ سزائے موت سناتی۔
مقتولہ کی والدہ مے مارٹینز سزا پر عمل درآمد چاہتی ہیں اور کہتی ہیں کہ انہوں نے کئی دہائیاں انتظار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی اسپیشل اولمپکس میں رضاکار تھی، رولر اسکیٹنگ پسند کرتی تھی اور کمپیوٹر کے شعبے میں کیریئر بنانا چاہتی تھی۔ ان کے مطابق گزشتہ ہفتے سلیمر کی سالگرہ تھی اور وہ 51 سال کی ہوتی۔
مرکز کے مطابق 1976 کے بعد امریکہ میں 18 خواتین کو سزائے موت دی گئی ہے، جو مجموعی تعداد کا تقریباً ایک فیصد ہے۔

