واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک کے بجائے تیسرے ممالک میں بھیجنے کی پالیسی عارضی طور پر دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
عدالت نے نچلی عدالت کے اس حکم کو معطل کر دیا جس کے تحت تارکین وطن کو ایسے ممالک بھیجنے سے قبل مناسب اطلاع اور اپنے تحفظات پیش کرنے کا موقع دینا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد انتظامیہ فوری طور پر تیسرے ممالک کو ملک بدری کا عمل جاری رکھ سکتی ہے، تاہم یہ اجازت حتمی نہیں ہے۔
عدالت نے پالیسی کی قانونی حیثیت کا فیصلہ کرنے کے لیے کیس پر دسمبر میں باقاعدہ سماعت مقرر کر دی ہے۔ عدالت کو یہ بھی جائزہ لینا ہوگا کہ آیا حکومت تارکین وطن کو ایسے ممالک بھیج سکتی ہے جہاں انہیں کوئی تعلق حاصل نہیں اور جہاں انہیں ظلم، تشدد یا دیگر سنگین خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
جسٹس سونیا سوتومائیر، ایلینا کاگن اور کیتن جی براؤن جیکسن نے انتظامیہ کی درخواست کی مخالفت کی۔ امیگریشن حقوق کے وکلا کا کہنا ہے کہ تازہ حکم پالیسی کو قانونی قرار نہیں دیتا بلکہ حتمی فیصلے تک اسے عارضی طور پر نافذ رہنے دیتا ہے۔
یہ اقدام صدر ٹرمپ کی غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت پالیسی اور بڑے پیمانے پر ملک بدری کے منصوبے کا حصہ ہے۔

