بغداد — بدھ کے روز دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد امریکی افواج نے عراق سے مکمل انخلاء کر لیا ہے۔ آخری دستے اربیل کے ایئربیس سے روانہ ہوئے، جس کے بعد عراقی شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا اور عراقی فوج نے بغداد و نجف میں پریڈ کی۔
عراقی وزیر اعظم علی فالح الزیدی نے کہا کہ یہ اقدام عراق کی مکمل خود مختاری کا آغاز ہے۔ انہوں نے 1 اکتوبر کو ‘یوم خود مختاری’ قرار دیا۔ تاہم تجزیہ کاروں نے سلامتی کے خلاء کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔
امریکی فوج 2003 میں صدام حسین کے خاتمے کے بعد عراق داخل ہوئی تھی۔ 2011 میں انخلاء کے بعد 2014 میں داعش کے خلاف واپس آئی۔ تنازع میں 4,500 امریکی اور 2 لاکھ سے زائد عراقی ہلاک ہوئے۔ پینٹاگون نے ‘آپریشن انہیرنٹ ریزالو’ کا خاتمہ объяв کیا۔
تجزیہ کار جاسم البہادلی نے کہا کہ "سیکورٹی کا خلاء خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔” ایران کے حمایت یافتہ گروپس نے اسے اپنی فتح قرار دیا ہے، جبکہ داعش کے سلیپر سیلز کا خطرہ بھی موجود ہے۔ عراق کے پاس اب بھی ڈرون حملوں کے خلاف مناسب فضائی دفاع نہیں ہے۔ امریکہ تربیت اور انٹیلی جنس امداد جاری رکھے گا۔

