گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی اجازت نہیں ملی، 4,000 پولیس اہلکار تعینات، 11 میٹرو اسٹیشن اور انٹرنیٹ بند

Jantar Mantar


جنتر منتر پر موجود مظاہرین۔ (تصویر: ارینجمنٹ)

کئی تنظیموں نے ایس آئی آر کے عمل کے دوران سامنے آنے والی وسیع پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزامات کو لے کرسی ای سی گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعہ کو دہلی کے جنتر منتر اور ممبئی کے شیواجی پارک میں احتجاج کی اپیل کی ہے۔ جنتر منتر پہنچنے والے مظاہرین کو روکا جا رہا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی کے درمیان 11 میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے ہیں۔

نئی دہلی:دہلی کے جنتر منتر پر جمعہ (2 اکتوبر) کو کئی تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کے اعلان کے مدنظر راجدھانی میں مرکزی فورسز اور دیگر نیم فوجی دستوں کی کمپنیوں سمیت تقریباً 4,000 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

مظاہرین الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹ میں کیے گئے ایس آئی آرکے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کریں گے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ایک افسر نے اخبار کو بتایا،’ضلع پولیس فورس، ریزرو فورس، ریپڈ ایکشن فورس اور دیگر نیم فوجی دستوں کو بلایاگیا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی کے لیے سینٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف)کی 20 کمپنیاں بھی تعینات کی جائیں گی۔

احتجاج کے پیش نظر جنتر منتر کے آس پاس کے علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت بند کر دی گئی ہے۔

دہلی میٹرو ریل کارپوریشن(ڈی ایم آر سی)نے جمعہ کو اطلاع دی کہ راجدھانی کے 11 میٹرو اسٹیشن اگلے حکم تک بند رہیں گے۔ ان میں جن پتھ، پٹیل چوک، سینٹرل سکریٹریٹ، راجیو چوک، سیوا تیرتھ، منڈی ہاؤس، لوک کلیان مارگ، آئی این اے، چاؤڑی بازار، رام کرشن آشرم مارگ اور نئی دہلی میٹرو اسٹیشن شامل ہیں۔

ایک الگ آرڈر میں بارہ کھمبا میٹرو اسٹیشن کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

اس سال یہ چوتھی بار ہے جب حکومت کے ڈر کی وجہ سے شہر کے لوگوں کو عوامی نقل و حمل اور سڑکوں کی سہولتوں سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے جولائی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کی قیادت میں راجدھانی میں ہوئے طلبہ کے احتجاج کے دوران دہلی کے 17 میٹرو اسٹیشن بند کیے جانے کے معاملے میں دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔

دہلی پولیس نے اس سے قبل جمعرات (1 اکتوبر) کو کہا تھا کہ اس ہفتے جنتر منتر پر الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کے لیے کسی بھی تنظیم کو اجازت نہیں دی گئی ہے۔

دہلی پولیس نے ایک پوسٹ کے ذریعے نئی دہلی ضلع میں بی این ایس ایس کی دفعہ 163 نافذ کیے جانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کا ایک جگہ پر جمع ہونا غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔

احتجاج صبح 11 بجے شروع ہونا ہے۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(آئیسا)نے کہا ہے کہ وہ جنتر منتر پر احتجاج کرے گی۔ 28 ستمبر کوآئیساکے ایک وفد نے، جس کی قیادت صدر نہا بورا کر رہی تھیں، جمعہ کی صبح 11 بجے مجوزہ احتجاج کے بارے میں پارلیامنٹ مارگ تھانے کو اطلاع دی تھی۔

سوشل میڈیا پر کئی ایسے ویڈیو سامنے آ رہے ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز مظاہرین کو احتجاجی مقام کی جانب جانے سے روکتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں۔ بڑی تعداد میں مظاہرین پولیس کی جانب سے لگائی گئی بیریکیڈنگ کے اردگرد گھومتے نظر آ رہے ہیں۔

پولیس اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ پولیس نے راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیامنٹ منوج جھا کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ انڈین یوتھ کانگریس نے بھی جنتر منتر پر نئے احتجاج کے لیے اجازت طلب کی تھی، لیکن اجازت نہیں دی گئی۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ میں دہلی پولیس کے سینئر افسران کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پولیس کو جنتر منتر پر ’بڑی تعداد میں‘ مظاہرین کے پہنچنے کی توقع ہے۔

افسران نے ’اضافی فورس‘ کی تعیناتی کے لیے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا ہے۔

دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں نے ٹالسٹائی مارگ، جن پتھ روڈ اور پارلیامنٹ مارگ سے لے کر جنتر منتر تک کئی سطحوں پر بیریکیڈنگ کی ہے۔ پورے احتجاجی مقام کو دونوں جانب سے، ٹالسٹائی مارگ اور کیرالہ بھون کی سمت سے، بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ اشوک روڈ کے قریب بھی بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔

دوسری جانب، سی جے پی نے ممبئی کے شیواجی پارک میں احتجاج کی اپیل کی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ