پاکستان کے سرکاری میڈیا نے جمعے کو رپورٹ کیا کہ قصور کے قریب سرحد پر انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی فائرنگ سے دو نہتے پاکستانی شہری جان سے گئے جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے ریڈیو پاکستان نے بتایا کہ لدھڑ گاؤں کے تین رہائشی سرحد کی نشاندہی کے لیے لگائے گئے پِلر سے چند قدم آگے گئے تو بی ایس ایف نے ’بغیر کسی وارننگ کے ان پر فائرنگ کر دی۔‘
رپورٹ کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ فائرنگ سے دو شہری جان سے گئے جبکہ ایک زخمی ہوا۔ تینوں افراد غیر مسلح تھے۔
جان سے جانے والوں کی شناخت عظمت رسول اور محسن جٹ کے طور پر کی گئی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’سکیورٹی ذرائع کے مطابق تینوں افراد غیر مسلح تھے اور انہوں نے کسی بھی مرحلے پر سرحد پر لگی خاردار تار (فینس) عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ انڈین فورسز کی جانب سے نہتے شہریوں پر فائرنگ بارڈر معاہدوں اور طے شدہ طریقہ کار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘
ریڈیو پاکستان کے مطابق ’انڈین میڈیا نے جھوٹے فالس فلیگ بیانیے کی روایت کو جاری رکھتے ہوئے بے گناہ شہریوں کو مبینہ درانداز قرار دیا۔‘
یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی فوج کے سابق حولدار محمد آصف کو پیش کیا جسے انڈیا نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں ایک کارروائی میں مارنے کا دعویٰ کیا تھا،
پریس بریفنگ کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا حالیہ الزامات دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک اور مسلح تنازع کا سبب بن سکتے ہیں تو انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی ایسی کارروائی کا سخت ترین جواب دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔

