کراچی کے علاقے نارتھ کراچی میں مزاحمت پر موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والا شہری خود ہی گاڑی چلاتے ہوئے نجی اسپتال پہنچ کر دوران علاج دم توڑ گیا۔
ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ نارتھ کراچی سرسید تھانے کی حدود میں ایک شخص گاڑی کے اندر فائرنگ سے زخمی ہوا، جن کی شناخت صبیح صدیقی ولد جاوید صدیقی کے نام سے ہوئی۔
ترجمان نے بتایا کہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زخمی شہری سیکٹر الیون بی نارتھ کراچی میں واقع نجی اسپتال پہنچا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا، ابتدائی تحقیقات کے مطابق جاں بحق شخص کی گردن پر گولی لگی جو آرپار ہوگئی۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس کو جیپ کے اندر سے نائن ایم ایم پستول، 17 گولیاں اور 7 لاکھ روپے نقد برآمد ہوئے تھے، واقعے کے بعد کرائم سین یونٹ کو طلب کر کے شواہد حاصل کیے گئے ہیں جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔
پولیس کے مطابق مقتول سوفٹ وئیر انجینئر تھا جس کی جیپ سے پولیس کو پستول،7 لاکھ روپے نقدی، دو موبائل فون اور دیگر سامان برآمد ہوا ہے۔
ایس ایچ او سرسید عرفان آصف کے مطابق مقتول صبیح صدیقی نیو کراچی سیکٹر الیون ایل کا رہائشی تھا اور اہل خانہ کے ہمراہ صفورا کے علاقے میں شفٹ ہوگیا تھا تاہم پرانا گھر اب بھی ان کے استعمال میں تھا۔
پولیس حکام کے مطابق دوران تفتیش معلوم ہوا کہ مقتول اپنے پرانےگھر میں الیکٹریشن سے اے سی لگوا رہے تھے اور الیکٹریشن کو بتا دیا تھا کہ وہ بینک تک جا رہا ہے اور جب وہ بینک سے نقدی نکلوا کر واپس جا رہے تھے تو فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس کو ایک سی سی ٹی وی فوٹیج ملی ہے جو زیادہ واضح نہیں ہے تاہم اس میں مقتول کی جیپ جب سلیم سینٹر والے یوٹرن پہنچی اور اس دوران گاڑی کی رفتار کم ہوئی تو وہاں پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں شبہ ہے کہ ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی کوشش کی تھی اور مزاحمت پر فائرنگ کر کے فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق مقتول کو سیدھے ہاتھ کی جانب گردن پر ایک گولی لگی جو دوسری جانب سے پار ہوگئی تھی، مقتول غیر شادی شدہ تھا اور اہل خانہ کا کہنا تھا کہ مقتول یا ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔
Source link

