واشنگٹن، 2 اکتوبر: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری سے تقریباً ایک ماہ قبل ایلون مسک کے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ ’گروک‘ سے وینزویلا میں ممکنہ عوامی ردعمل کے بارے میں سوال کیا تھا۔
’ٹائم‘ میگزین کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے دسمبر 2025 میں وائٹ ہاؤس میں ایلون مسک سے ایک نجی ملاقات کے دوران کئی گھنٹے گروک سے اپنی صدارت، سیاسی ورثے اور وینزویلا سے متعلق سوالات کیے۔ ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹرمپ نے پوچھا کہ اگر امریکی فوج مادورو کو گرفتار کرلے تو وینزویلا کے عوام کا ردعمل کیا ہوگا۔
گروک نے مبینہ طور پر مادورو کو ایک ’’جابر اور انتہائی غیر مقبول رہنما‘‘ قرار دیتے ہوئے پیش گوئی کی کہ بہت سے وینزویلا باشندے ان کی برطرفی پر جشن منائیں گے۔ تاہم، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مشورے نے امریکی فوجی کارروائی کے فیصلے کو کس حد تک متاثر کیا، اس کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں۔
امریکی فوج نے جنوری 2026 میں ’آپریشن ایبسولیوٹ ریزولو‘ کے تحت کراکس میں کارروائی کرکے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کیا اور انہیں امریکہ منتقل کردیا۔ یہ کارروائی کئی ماہ کی منصوبہ بندی کے بعد کی گئی تھی اور تقریباً ڈھائی گھنٹے جاری رہی۔
رپورٹ کے مطابق، مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا میں ہونے والے جشن سے ٹرمپ گروک کی پیش گوئی سے متاثر ہوئے، تاہم یہ واضح نہیں کہ مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ کے جوابات نے امریکی صدر کے حتمی فیصلے میں براہِ راست کوئی کردار ادا کیا یا نہیں۔

