واشنگٹن، 2 اکتوبر: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا نیا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران جوہری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ’’منشیات بھی بنا رہا تھا‘‘۔
ڈیورانٹ، اوکلاہوما میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے جون 2025 میں ایران کے جوہری مراکز کے خلاف امریکی کارروائی ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی بمبار طیاروں نے ایران میں واقع ’’منشیات کے کارخانوں‘‘ کو بھی نشانہ بنایا، جو ان کے بقول بیک وقت جوہری اور منشیات سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
ٹرمپ نے کہا، ’’وہ جوہری سرگرمیاں بھی کر رہے تھے اور منشیات بھی بنا رہے تھے۔ ان منشیات اور جوہری کارخانوں کو انتہائی شدید نقصان پہنچایا گیا۔‘‘ تاہم دستیاب سرکاری ریکارڈ میں ان مقامات کو ایران کے جوہری مراکز کے طور پر بیان کیا گیا ہے، نہ کہ منشیات کی فیکٹریوں کے طور پر۔�
یہ پہلا موقع ہے جب ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کی وضاحت میں منشیات کی تیاری کو بھی شامل کیا ہے۔ وہ اس سے قبل مسلسل کہہ چکے ہیں کہ امریکی کارروائی کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا۔
ٹرمپ ماضی میں مشرقی بحرالکاہل، کیریبیئن اور وینزویلا سے متعلق فوجی کارروائیوں کے لیے بھی منشیات کے خلاف جنگ کو جواز کے طور پر پیش کر چکے ہیں۔ سابق وینزویلا صدر نکولس مادورو نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔
امریکی عوام جنگ سے ناخوش
سی این این اور ایس ایس آر ایس کے سروے کے مطابق 16 اور 17 ستمبر کو کیے گئے جائزے میں 73 فیصد امریکیوں نے ایران کے معاملے پر ٹرمپ کے طریقہ کار سے اختلاف کیا، جبکہ 26 فیصد نے اسے درست قرار دیا۔ 75 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ صدر کے پاس ایران سے متعلق کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔ سروے میں 1,206 امریکی شہریوں نے حصہ لیا۔�
ایران کے ساتھ تنازع کے دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے مقاصد کی نئی وضاحت نے امریکی فوجی کارروائی کے بارے میں مزید سوالات پیدا کردیے ہیں

