سمندر کی گہرائیوں میں ہزاروں نئے وائرس دریافت، سائنسدان بھی حیران
یہ سمندری خطہ دنیا میں کثیر دھاتی گٹھلیوں کے سب سے بڑے ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔
بحرالکاہل کی گہرائیوں میں موجود ایک وسیع سمندری خطے سے سائنسدانوں نے 11 ہزار سے زائد مختلف وائرس دریافت کیے ہیں جن میں تقریباً 99 فیصد ایسے ہیں جنہیں اس سے قبل سائنس کی دنیا میں دستاویزی شکل نہیں دی گئی تھی۔
چونکنگ یونیورسٹی اور چین کے دوسرے اداروں سے وابستہ سائنسدانوں نے کلیریئن کلپرٹن دراڑ والے خطے کی سمندری تہہ سے حاصل کیے گئے نمونوں کا تفصیلی جائزہ لیا جس کا مقصد گہرے سمندر کے ماحولیاتی نظام میں موجود وائرسوں کی نوعیت اور کردار کو سمجھنا تھا۔
یہ سمندری خطہ دنیا میں کثیر دھاتی گٹھلیوں کے سب سے بڑے ذخائر میں شمار ہوتا ہے جن میں مینگنیز، کوبالٹ، نکل، لیتھیم اور زنک سمیت کئی اہم دھاتیں پائی جاتی ہیں۔
ان دھاتی گٹھلیوں کی وجہ سے کئی ممالک گہرے سمندر میں معدنیات کی تلاش اور ممکنہ کان کنی میں دلچسپی رکھتے ہیں تاہم یہی گٹھلیاں سمندر کی تہہ میں موجود متعدد جانداروں کے لیے رہائش اور زندگی کی بنیاد بھی فراہم کرتی ہیں۔
تحقیق کے دوران 2023 اور 2024 میں حاصل کیے گئے سمندری تہہ کے نمونوں سے جینیاتی مواد الگ کرکے اس کا تجزیہ کیا گیا۔ سائنسدانوں نے ان نمونوں کا گہرے سمندر کے دیگر علاقوں سے حاصل شدہ مواد سے بھی موازنہ کیا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ دریافت کیے گئے وائرسز کی بڑی تعداد ایسے یک خلوی جانداروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو سمندری ماحولیاتی نظام میں کاربن، نائٹروجن، فاسفورس، گندھک اور دھاتوں کے قدرتی چکر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق وائرس اپنے میزبان جانداروں کے اندر موجود جینیاتی نظام کو متاثر کرکے ان کے افعال اور بقا پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس طرح یہ وائرس سمندری تہہ میں ہونے والے حیاتیاتی اور کیمیائی عمل میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گہرے سمندر میں ممکنہ کان کنی سے سمندری تہہ میں موجود مٹی متاثر، دوبارہ معلق اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوسکتی ہے جس کے اثرات کئی دہائیوں تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
محققین کے مطابق کان کنی کی صورت میں ان وائرسز اور ان سے وابستہ جانداروں پر پڑنے والے اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ اس منفرد ماحولیاتی نظام میں وائرسوں کا کردار ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوا۔

