راولپنڈی، پاکستان – پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں دستیاب سہولیات پر سپرنٹنڈنٹ جیل کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئی تفصیلی رپورٹ نے ان کی حراستی حالات پر جاری بحث کو مزید ہوا دے دی ہے۔
تین صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خان کا کمپاؤنڈ سات سیلز پر مشتمل ہے، جس کے سامنے 57 فٹ لمبی اور 14 فٹ چوڑی راہداری ہے۔ کمپاؤنڈ سے ملحق 35×37 فٹ کا لان ہے جہاں خان کتابیں اور اخبارات پڑھتے ہیں اور دھوپ سینکتے ہیں۔
دستاویز کے مطابق، یہ کمپاؤنڈ 30 سے 35 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش رکھتا ہے، لیکن خان کو "بیٹر کلاس” کیٹیگری کے تحت اضافی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ انہیں ورزش کے لیے سائیکلنگ مشین اور دیگر جم کا سامان دستیاب ہے، اور صبح سے شام تک قدرتی روشنی اور تازہ ہوا کی رسائی یقینی بنائی جاتی ہے۔
رپورٹ میں خان کی خوراک کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، جن میں ناشتے کے لیے کھجور، اخروٹ، شہد، کافی، دلیہ، لسی، گرم دودھ اور چیا سیڈز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ مسمی اور انار کا جوس بھی پیتے ہیں۔
دوپہر کے کھانے میں دیسی مرغ، مٹن، سلاد، مکس اچار، آلو چپس، انڈہ فرائی اور مکس دال فراہم کی جاتی ہے۔ شام کو وہ بادام، کشمش، پسا ہوا ناریل، دودھ، کھجور، کیلے اور سیب کا شیک استعمال کرتے ہیں۔
سپرنٹنڈنٹ نے تصدیق کی کہ خان کو محفوظ ماحول میں رکھا گیا ہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔2cb94bd4c59ad2887c
یہ انکشاف خان کی صحت سے متعلق وسیع تر خدشات کے دوران سامنے آیا ہے، جن میں ان کی دائیں آنکھ میں بینائی کی شدید کمی کی حالیہ رپورٹس شامل ہیں، جس پر طبی جائزے کی کالز دی جا رہی ہیں۔4d1903 خان، جو اگست 2023 سے مختلف مقدمات میں قید ہیں، پاکستانی سیاست میں ایک متنازع شخصیت ہیں، جہاں ان کے حامیوں کا الزام ہے کہ ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے جبکہ حکام قانونی معیارات کی پابندی کا دعویٰ کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے اس رپورٹ کا جائزہ جیل اصلاحات اور سیاسی قیدیوں کے حقوق سے متعلق جاری پٹیشنز پر اثر انداز ہونے کی توقع ہے۔

