قرض کس نے لیا، قیمت کون ادا کرے گا ؟

2716089 zahidahinanewnew 1727807446


قرض کی کہانی بہت پرانی ہے۔ ایک آدمی ضرورت کے وقت دوسرے آدمی سے کچھ رقم مانگتا ہے۔ رقم مل جاتی ہے تو ساتھ ایک سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس کی ادائیگی کب ہوگی؟ یہ سوال نہ ظالمانہ ہے نہ غیر اخلاقی۔ جس نے پیسہ دیا ہے اسے اپنی رقم واپس چاہیے۔

قرض خواہ کو اس سے زیادہ غرض نہیں کہ قرض دار اپنی رقم کہاں سے لائے گا، وہ اپنے گھر کا خرچ کم کرے، اپنی آسائشیں ترک کرے، آمدن بڑھائے یا کوئی اور راستہ نکالے، فیصلہ قرض دار کا ہے۔ ریاستوں کی دنیا بھی اس بنیادی اصول سے مختلف نہیں۔ پاکستان نے قرض لیا ہے، تو قرض واپس کرنا ہوگا۔

یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن اصل سوال قرض لینے کے بعد پیدا ہوتا ہے،یہ قرض واپس کیسے کیا جائے گا اور اس کی قیمت کون ادا کرے گا، یہی وہ مقام ہے جہاں معاشی اعداد و شمار انسانی زندگی سے جڑ جاتے ہیں۔

کاغذ پر قرض ایک عدد ہے، بجٹ میں وہ ایک رقم ہے۔ آئی ایم ایف کی دستاویز میں وہ ایک پروگرام اور شرائط کا مجموعہ ہے، لیکن ایک عام آدمی کے لیے قرض کی قیمت کسی اور شکل میں سامنے آتی ہے۔ بجلی کا بل، پٹرول کی قیمت، مہنگی دوا، اسکول کی فیس، آٹے کا تھیلا اور گھر کے محدود بجٹ میں ہر روز پیدا ہونے والی ایک نئی کمی۔

یہی وجہ ہے کہ قرض کی بحث صرف مالیاتی بحث نہیں رہتی، یہ آخرکار سماجی انصاف کی بحث بن جاتی ہے۔ ہمیں یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ قرض دینے والے سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے پیسے کی واپسی کی فکر نہ کرے، اگر کوئی عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان کو قرض دیتا ہے تو وہ یقینا یہ دیکھے گا کہ پاکستان اپنی مالی ذمے داریاں کس طرح پوری کرے گا۔

یہ اس کے مفاد کا تقاضا ہے، لہذا قرض دینے والے کا کام قرض کی واپسی کا تقاضا کرنا ہے۔ یہ طے کرنا قرض دار ریاست کا کام ہے کہ وہ اپنے سماج میں اس واپسی کا بوجھ کیسے تقسیم کرتی ہے۔ یہی اصل سیاسی اور معاشی سوال ہے۔

پاکستان میں ٹیکس کی ضرورت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ ریاست ٹیکس کے بغیر نہیں چل سکتی۔ اسکول، اسپتال ،سڑکیں ،عدالتیں ،دفاع ،انتظامیہ سب کے لیے وسائل درکار ہیں۔

مگر ٹیکس صرف وصول کرنے کا نام نہیں، انصاف کے ساتھ وصول کرنے کا نام بھی ہے،اگر ایک ملک میں تنخواہ دار طبقہ اپنی آمدن پر باقاعدگی سے ٹیکس دیتا ہے، خریداری پر ٹیکس دیتا ہے، پٹرول پر ٹیکس دیتا ہے، بجلی اور گیس کے بل میں مختلف محصولات ادا کرتا ہے تو یہ سوال بھی اٹھے گا کہ بڑی دولت، بڑی جائیداد، غیر دستاویزی کاروبار اور کم ٹیکس دینے والے معاشی شعبے یا علاقے اپنی استطاعت کے مطابق کتنا حصہ ادا کر رہے ہیں۔

آئی ایم ایف کی اپنی پاکستان کے بارے میں حالیہ دستاویزات میں بھی ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور ایسے شعبوں سے زیادہ آمدن حاصل کرنے پر زور دیا گیا ہے جہاں ٹیکس وصولی معاشی سرگرمی کے مقابلے میں کم ہے۔

پاکستان کا ٹیکس ریونیو اب بھی کئی ہم پلہ معیشتوں کے مقابلے میں کم ہے۔ یہ اعداد ہمیں ایک بنیادی حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں ،مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں ٹیکس کم ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ٹیکس کا بوجھ کس طرح تقسیم ہے۔

ایک غریب آدمی کی آمدن کا بڑا حصہ ضروریات زندگی پر خرچ ہوجاتا ہے۔ اس کے پاس بچت کی گنجائش کم ہوتی ہے۔ جب بجلی، پٹرول ،خوراک یا دوا مہنگی ہوتی ہے تو اس کی زندگی فوراً متاثر ہوتی ہے۔

ایک امیر آدمی کے لیے اسی قیمت میں اضافہ محض اس کے اخراجات کا ایک حصہ ہوسکتا ہے۔ اسی لیے ہر ٹیکس یکساں نہیں ہوتا اور ہر ٹیکس کا بوجھ بھی یکساں نہیں ہوتا۔

پاکستان میں برسوں سے ایک آسان راستہ اختیار کیا جاتا رہا ہے جس سے وصولی آسان ہو، اس سے وصول کرلو۔تنخواہ دار شخص ٹیکس نیٹ میں ہے،اس لیے اس سے ٹیکس لینا نسبتاً آسان ہے۔

پٹرول خریدنے والا دستاویزی نہیں بھی ہو تو پٹرول پمپ پر موجود ٹیکس سے بچ نہیں سکتا۔ بجلی کا صارف بھی بل کے ذریعے ریاست کی دسترس میں ہے،مگر دولت کے ان حصوں تک پہنچنا جہاں آمدن چھپی ہوئی ہے جہاں اثاثے کم ظاہر کیے جاتے ہیں جہاں کاروبار دستاویز سے باہر ہے جہاں زمین اور جائیداد کی حقیقی قدر اور آمدن کا پورا حساب سامنے نہیں آتا، کہیں زیادہ مشکل کام ہے، یہی ریاست کی صلاحیت اور سیاسی ارادے کا امتحان ہوتا ہے۔

قرض اتارنے کے لیے غریب سے یہ کہنا آسان ہے کہ اپنی کھپت کم کرو۔ آسان یہ بھی ہے کہ سبسڈی ختم کردی جائے اور بجلی کی قیمت بڑھا دی جائے۔ آسان یہ بھی ہے کہ پٹرول مہنگا کردیا جائے اور ہر اضافی بوجھ کو مالیاتی ضرورت کا نام دے دیا جائے۔

مشکل کام یہ ہے کہ دولت کے ہر بڑے مرکز تک پہنچا جائے، ٹیکس چوری روکی جائے، مراعات کا جائزہ لیا جائے، غیر ضروری اخراجات کم کیے جائیں اور ان شعبوں کو بھی قومی خزانے میں ان کا حصہ ادا کرنے پر مجبور کیا جائے جو طویل عرصے سے کم حصہ ادا کرتے آئے ہیں یا ٹیکس سے استثنا کی سہولت سے لطف اٹھا رہے ہیں۔

یہ بحث صرف آج کی نہیں، پاکستان کی معاشی تاریخ میں قرض بار بار آیا ،بحران بار بار آیا، بیل آؤٹ پروگرام بار بار آئے اور ہر بار یہ وعدہ بھی کیا گیا کہ اب معیشت کو اس مقام تک پہنچایا جائے گا جہاں دوبارہ قرض کی ضرورت نہ رہے۔لیکن ہم وہاں نہیں پہنچ سکے کیوں؟ کیونکہ قرض صرف رقم کا مسئلہ نہیں تھا۔

ہماری پیداوار کمزور رہی، برآمدات محدود رہیں، ٹیکس کا نظام غیر منصفانہ اور ناکافی رہا ،ریاستی اداروں کے نقصانات بڑھتے رہے اور سیاسی حکومتیں طویل مدتی اصلاحات کے بجائے فوری بحران سے نکلنے کو ترجیح دیتی رہیں، یوں قرض ایک وقتی سہارا ہونے کے بجائے معیشت کی مستقل بیساکھی بنتا گیا۔

ایک قرض چکانے کے لیے دوسرا قرض، دوسرے کی ادائیگی کے لیے تیسرا قرض۔ اس طرح ایک دن وہ مقام آجاتا ہے جہاں حکومت کا بڑا حصہ اپنی آمدن کا قرض اور اس کے سود کی ادائیگی میں خرچ کرنے لگتا ہے۔تب عام آدمی پوچھتا ہے، میری زندگی میں بہتری کہاں ہے؟ اس سوال کا جواب صرف یہ نہیں ہوسکتا کہ ملک نے اپنی ایک اور قسط حاصل کرلی ہے۔

ملک تب مضبوط ہوگا، جب وہ قرض لے کر صرف پرانا قرض نہ اتار رہا ہو بلکہ اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا رہا ہو۔ جب برآمدات بڑھیں، روزگار پیدا ہو، تعلیم اور صحت بہتر ہوں ٹیکس کا دائرہ وسیع ہو اور ریاست اپنے شہریوں کو صرف ٹیکس دہندہ نہیں بلکہ انسان سمجھے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ قرض واپس کرنا قومی ذمے داری ہے، مگر قومی ذمے داری کا مطلب یہ نہیں کہ ہر معاشی بوجھ سب سے کمزور کندھے پر رکھ دیا جائے۔ ریاست اگر اپنے شہریوں سے قربانی مانگتی ہے تو اسے پہلے یہ بتانا ہوگا کہ قربانی کی تقسیم کا اصول کیا ہے۔ جس کے پاس زیادہ ہے، کیا وہ زیادہ دے رہا ہے جس کے پاس کم ہے، کیا اسے تحفظ مل رہا ہے، کیا ریاست اپنے غیر ضروری اخراجات کم کر رہی ہے، کیا ٹیکس چوری کے خلاف وہی سختی ہے جو بجلی کے بل کی عدم ادائیگی کے خلاف ہے۔کیا دولت اور آمدن کے بڑے مراکز بھی اسی ریاست کے سامنے جواب دہ ہیں جس کے سامنے ایک معمولی تنخواہ دار شخص ہر ماہ حساب دیتا ہے۔ یہ سوال کسی عالمی ادارے کے خلاف نہیں۔ یہ سوال پاکستان کے اپنے ضمیر کے سامنے ہے۔
قرض خواہ اپنی رقم واپس چاہتا ہے، اسے اپنی رقم واپس ملنی چاہیے، مگر قرض دار ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنے لوگوں سے کیا لے گی اور کس سے لے گی۔ اگر قرض واپس کرنے کے لیے ایک بچے کی تعلیم چھن جائے، ایک بیمار کی دوا رہ جائے، ایک خاندان کی خوراک کم ہوجائے تو یہ صرف معاشی فیصلہ نہیں رہتا۔ اس کے پیچھے ایک سماجی قیمت ہوتی ہے،اگر اسی قرض کی ادائیگی کے لیے دولت مند طبقے بڑی جائیدادوں، غیر دستاویزی آمدن اور مراعات یافتہ شعبوں کو بھی ان کے حصے کی ذمے داری اٹھانی پڑے تو شاید ریاست اپنے شہریوں سے صرف قربانی نہیں مانگ رہی ہوگی بلکہ انصاف بھی کر رہی ہوگی۔
سوال بہت سادہ ہے قرض کس نے لیا ،یہ ایک سوال ہے۔لیکن قرض کی قیمت کون ادا کرے گا، یہ اس سے کہیں بڑا سوال ہے۔ کسی بھی مہذب ریاست کی پہچان شاید یہی ہے کہ جب خزانہ خالی ہو تو وہ سب سے پہلے اس شخص کی جیب نہ دیکھے، جس کی جیب پہلے ہی خالی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ