
(ویب ڈیسک)امریکی ریاست ٹینیسی کے محکمہ اصلاح کے کمشنر فرینک اسٹریڈا نے سزا یافتہ قاتل کرسٹا پائیک کی سزائے موت پر عمل درآمد ناکام ہونے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ٹینیسی کے گورنر بل لی نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ فرینک اسٹریڈا رواں ماہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔
کرسٹا پائیک کے وکلا کے مطابق مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد 50 سالہ پائیک کی حالت تشویش ناک ہے، وہ بے ہوشی کی حالت میں وینٹی لیٹر پر ہیں۔
پائیک کو 1995 میں کولین سیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی، سزائے موت پر عمل درآمد کے دوران انہیں عام طور پر جان لیوا سمجھی جانے والی دوا پینٹوباربیٹل کے دو انجیکشن دیے گئے، تاہم وہ دونوں انجیکشن کے باوجود زندہ رہیں۔
ٹینیسی میں رواں سال یہ سزائے موت پر عمل درآمد کی دوسری ناکام کوشش ہے، مئی میں ایک قیدی کو سزائے موت دینے کی کارروائی اس وقت روک دی گئی تھی جب طبی عملہ اس کے بازو میں رگ تلاش کرکے انجیکشن لگانے میں ناکام رہا تھا۔
مزید پڑھیں: کھٹملوں کی بہتات کے باعث انگلینڈ میں ٹرین سروسز معطل
گورنر بل لی نے اپنے بیان میں فرینک اسٹریڈا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس مشکل صورتحال میں ٹینیسی کے شہریوں کے مفادات کو ترجیح دینے کے لیے آمادگی ظاہر کی۔
دوسری جانب فرینک اسٹریڈا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ محکمہ اصلاح نے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔
اس سے قبل کرسٹا پائیک کی رحم کی اپیل مسترد کرنیوالے گورنر بل لی نے سزائے موت پر عمل درآمد کے مزید تمام معاملات سال کے اختتام تک روک دیے ہیں، اس دوران ناکام کارروائی کا جائزہ لیا جائے گا۔
اگر مہلک انجیکشن سے پائیک کی موت واقع ہو جاتی تو وہ دو صدیوں سے زائد عرصے میں ٹینیسی میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہوتیں۔
امریکا میں 1976 کے بعد سے اب تک صرف 18 خواتین کو سزائے موت دی گئی ہے۔
سزائے موت سے متعلق ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق یہ تعداد ملک میں دی جانے والی مجموعی سزائے موت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

