(ویب ڈیسک) اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کے ووٹرز لسٹ دھاندلا اور ووٹ چوری کے خلاف احتجاج ہوا تو لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر اور احتجاج کی نمایاں آواز پروفیسر روپ ریکھا ورما سمیت مارچ میں شامل ہونے آئے سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا، جن میں بڑی تعداد میں خواتین اور نوجوان شامل تھے۔
لکھنؤ میں ووٹ چوری اور گیانیش کے خلاف احتجاجی مارچ کے متعلق اننڈا کے صف اول کے اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا، "وہ نکل بھی نہیں پائے تھے کہ حراست میں لے لیے گئے.”
لکھنؤ میں گزشتہ کئی دنوں سے جدوجہد اور نوجوانوں کے جوش کا جو ماحول بن رہا تھا، اس سے پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ’ووٹ چوری‘ کے خلاف پریورتن چوک سے گاندھی مجسمے تک ہونے والا پرامن احتجاج بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی حکومت کو راس نہیں آئے گا۔ کوینکہ گیانیش کی ووٹرز لسٹ دھاندلا کی سب سے بڑی وکٹم یہی اتر پردیش سٹیٹ ہے جہاں مسلمانوں اور "نیچ ذات” ہندوؤں کے ووٹوں کو گاجر مولی کی طرح ووٹر لسٹ سے کاٹ ڈالا گیا۔
نتیجہ اس احتجاج کے شروع ہوتے ہی سامنے آ گیا، جب مقررہ 2 بجے سے کافی پہلے ہی بھاری پولیس بندوبست نے چاروں طرف سے پریورتن چوک پارک کی ناکہ بندی کر دی۔ پہلے تو احتجاج میں شامل ہونے کے لئے گھروں سے نکلنے والے لوگوں کو وہاں پہنچنے سے ہی روکنے کی کوشش کی گئی اور پھر جو لوگ ادھر اُدھر سے پولیس کو چکر دے کر احتجاج کے لئے مقرر جگہ تک پہنچ گئے، انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : لانگ مارچ روکنے کی آخری کوشش کب، کس نے کی؟ سینئیر جرنلسٹ نے مذاکرات کولیپس ہونےکی کہانی کا ایک اور ورق شئیر کر دیا
لکھنؤ پولیس لوگوں کو حراست میں لے کر بسوں میں بھرتی جا رہی تھی۔ لیکن اس پکڑ دھکڑ سے احتجاج کم ہونے کی بجائے الٹا بڑھ گیا، احتجاج میں شامل ہونے آئے لوگوں کی تعداد بڑھتی رہی۔
عورتوں، سٹوڈنٹس کے ساتھ پروفیسر روپ ریکھا بھی پکڑی گئیں
لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر اور احتجاج کی نمایاں آواز پروفیسر روپ ریکھا ورما سمیت مارچ میں شامل ہونے آئے سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ جن میں بڑی تعداد میں خواتین اور نوجوان شامل تھے۔ حراست میں لیے گئے لوگوں میں پروفیسر روپ ریکھا ورما کے علاوہ سدھانشو باجپئی، مدھو گرگ، پریئش، ششی شمد، وویک مشرا، مہیندر یادو، راجیو دھیانی، وہاب احمد، راکیش، سوریہ موہن کُلشریشٹھ، مردولا بھاردواج، انکت گپتا، اونیش چورسیا، شبھم کھروار، نتیش مشرا، دیپک کبیر وغیرہ شامل ہیں۔ تمام مظاہرین کو ایکو گارڈن لے جایا گیا، جہاں شام کو دن ڈھلنے پر انہیں رہا کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیئے: لانگ مارچ روکنے کی آخری کوشش کب، کس نے کی؟ سینئیر جرنلسٹ نے مذاکرات کولیپس ہونےکی کہانی کا ایک اور ورق شئیر کر دیا
مکمل طور پر پُرامن احتجاج پر پولیس کی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے پروفیسر روپ ریکھا ورما نے اسے حکومت کی بزدلی اور مزاحمت کی جیت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے ’ووٹ چوری‘ کا جواب مانگتے ہوئے اور اس کے لیے ذمہ دار گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان ہاتھوں میں نہ کوئی ہتھیار تھے اور نہ ہی اشتعال انگیز آواز، صرف کچھ نعرے لکھے پلے کارڈز تھے۔ لیکن حکومت اب شاید نوجوانوں اور سول سوسائٹی کی اجتماعی موجودگی کی آواز کو بھی پڑھنے لگا ہے اور اسے برداشت نہیں کر پا رہا۔ ان کے مطابق آج کا پولیس کا طرز عمل اقتدار کے اسی خوف کی علامت ہے۔
لکھنؤ میں مزاحمت کی یہ آواز 2 روز قبل 30 ستمبر کو اس وقت نمایاں ہوتی دکھائی دی، جب ملک اور ریاست میں پیپر لیک، بڑھتی بے روزگاری اور مہنگی ہوتی تعلیم کے خلاف طلبہ و نوجوان تنظیم ’جسٹس مورچہ‘ کی گورکھپور کے چوری چورا سے شروع ہوئی سائیکل یاترا کشی نگر، دیوریا، بلیا، اعظم گڑھ، وارانسی اور پریاگ راج سے ہوتی ہوئی 40ویں روز لکھنؤ پہنچی اور جگہ جگہ اس کا شاندار استقبال ہوا۔ یاترا میں آئسا، این ایس یو آئی، سماجوادی طلبہ سبھا کے ساتھ جسٹس مورچہ کے ارکان اور عہدیدار شامل تھے۔ اپنے آخری مرحلے میں یاترا لکھنؤ کے تیلی باغ سے شروع ہو کر ’کاکوری شہید اسمارک‘ پہنچی اور یکم اکتوبر کو گاندھی میدان کے کستوربا آڈیٹوریم میں ’زین-جی کنیکٹ لکھنؤ‘ جلسے میں تبدیل ہو گئی، جس سے مختلف عوامی تنظیموں کے نمائندوں نے خطاب کیا۔
بمبئی میں کیا ہوا؟ کاکروچوں کا دوسرا ٹارگٹ گیانیش!
اتوار کو بمبئی میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر گیانیش کمار کو الیکشن کمیشن سے نکالنے کے لئےزبردست احتجاج کیا۔ یہ بمبئی میں اس مطالبہ کو لے کر دوسرا بڑا احتجاج ہے۔ گزشتہ احتجاج مین پولیس نے سٹوڈنٹ لیڈر نیہا کو بھی گرفتار کیا تھا۔ بھارتی پرچم لہراتے ہوئے ہزاروں مظاہرین نے الیکشن کمشنر گنیش کمار سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔
اتوار کو گیانیش کمار کے استعفے کے لئے سڑک پر نکلنے والے مظاہرین میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کے حامی بھی بڑی تعداد میں شامل تھے۔ کاکروچ پارٹی نے اپنی پہلی احتجاجی مہم سے مودی کے مرکزی وزیر تعلیم کو وزارت سے نکلوایا تھا۔ اس مرتبہ وہ گیانیش کو نکلوانے کے لئے سڑک تک آئے ہیں۔
سی جے پی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’بمبئی آزاد اور شفاف انتخابات کے لیے ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آیا ہے!‘ ۔
دیپکے نے تمام مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام بھارتی متحد ہو جائیں، کیونکہ اب نہیں تو کبھی نہیں۔
دارالحکومت دہلی میں کیا ہوا؟ خواتین کو ہراساں کرنے کے الزامات
نئی دہلی میں ہفتے کے روز جنتر منتر کے مخصوص احتجاجی مقام کے قریب سے پولیس نے درجنوں مظاہرین کو حراست میں لیا تھا۔ ان میں لرکیاں زیادہ تھیں۔ اسی دوران پولیس اہلکاروں نے لڑکیوں کو ہراساں کیا۔ ان حرکتوں کی ویڈیو بنتی رہیں، سوشل میڈیا پر شور مچا لیکن پولیس کے افسروں نے اپنے سٹاف کی بد تہذیبی اور گھتیا طرز عمل کا نوٹس تک نہیں لیا۔ آج زیادہ زور کے ساتھ جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے۔

سابق وزیراعلیٰ کو بھی نہیں بخشا
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر جنتر منتر پر احتجاج کے دوران دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ آتشی کو بھی دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔

سٹوڈنٹ لیڈر نیہا کو بھی جنتر منتر احتجاج میں گرفتار کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے مذاکرات کار ہر بات مان گئے، محمود اچکزئی اور سہیل آٖفریدی نے کچھ نہیں مانا، مذاکرات ناکام، لانگ مارچ کا اعلان
آج اتوار کو کاکروچ پارٹی ، کانگرس پارٹی، سٹوڈنٹس تنظیموں ک، ویمن رائئٹس کی ڈیفینڈر عورتوں سمیت سینکڑوں کارکنوں نے نئی دہلی کے ایک پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہو کر ان الزامات پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کے بعد دہلی پولیس نے ایک باضابطہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ 3 خواتین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔یہ تینوں خواتین پیشہ کے اعتبار سے جرنلسٹ ہیں اور وہ جنتر منتر احتجاج کی کوریج کے لئے وہاں موجود تھیں۔ دہلی پولیس نے اس معاملے کی ’شفاف اور غیر جانبدارانہ‘ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ لیکن دہلی پولیس کے وعدوں پر کسی کو اعتبار نہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں، ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ایک پولیس افسر نے انہیں دھکا دیا اور جنسی طریقے سے چھوا۔
کاکروچ پارٹی کے کارکن سورو داس نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ متاثرہ خاتون کے ساتھ ایک وفد تھانے گیا ہے اور وہ تفتیش کے لیے تھانے کے اندر موجود ہیں۔ اس حوالے سے ابھیجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ ملزم پولیس افسر کو فی الفور گرفتار کیا جانا چاہیے۔
گیانیش کو نکالنے کے لئے آئندہ کا لائحہ عمل؛ منگل کو جلوس نکلے گا
بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اشاروں پر کام کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی۔
اپوزیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ منگل کو نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کریں گے، جس کے بعد ملک بھر میں ’جمہوریت بچاؤ‘ کے نام سے ریلیاں نکالی جائیں گی۔
دوسری جانب، سی جے پی نے 10 اکتوبر کو نئی دہلی میں نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر متحرک کرنے اور ایک وسیع احتجاجی تحریک شروع کرنے کی کال دے دی ہے۔

