سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کی پاسداری کریں گے: امریکہ

397016 204257527


امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو کہا کہ یمنی حکومت کی فورسز اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باوجود امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دو طرفہ سکیورٹی معاہدے کے تحت وعدوں کی پاسداری کرے گا۔

روبیو نے یورپ کے دورے کے لیے روانہ ہونے سے قبل ایک پریس کانفرنس میں کہا ’امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی معاہدہ ہے اور ہم اس کی پاسداری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

ان کے دورے میں آئس لینڈ، یونان اور پرتگال شامل ہیں۔ روبیو نے کہا سعودی عرب کو حوثیوں کے مسلسل حملوں کے خلاف ’اپنا دفاع کرنے کا حق ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

انہوں نے مزید کہا کہ یمنی حکومت کی فورسز ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو گذشتہ جھڑپوں میں ان کے قبضے سے نکل گئے تھے۔

لڑائی باب المندب آبنائے کے ارد گرد شدت اختیار کر گئی ہے، جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔

روبیو نے کہا سعودی اور یمنی فورسز اس آبی گزرگاہ کے قریب حوثیوں کے کنٹرول کی مخالف ہیں اور مقامی سطح پر ہونے والی جوابی کارروائیوں کو ایک متوقع پیش رفت قرار دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا ’یمن میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ حوثیوں کی جارحیت کے خلاف جوابی کارروائی ہے۔‘

ان کے یہ ریمارکس یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی کی جانب سے حوثیوں کے زیر قبضہ دارالحکومت صنعا کو دوبارہ حاصل کرنے اور ریاستی اداروں کو بحال کرنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آئے۔

حوثی 2014 سے صنعا پر قابض ہیں۔ یمنی فوج کے یونٹس نے پیر کو کہا کہ انہوں نے باب المندب آبنائے کے قریب ذباب ضلع اور دیگر اہم تزویراتی مقامات کو محفوظ بنا لیا ہے۔

امریکہ نے اس مہم کی حمایت میں فضائی حملوں یا دیگر جنگی کارروائیوں میں براہ راست شرکت کا عزم نہیں کیا۔

اس کی بجائے واشنگٹن نے سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور مشاورتی معاونت فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے، جس کے مطابق ستمبر میں سی این این کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ