لندن ۔ لندن کے علاقے ساوتھ فیلڈ اور ایسٹ پٹنی کے درمیان انگلستان میں تعمیر ہونے والی پہلی بیت الذکر مسجد فضل کی تعمیر کے ایک سو سال پورے ہونے پر ہفتہ کے روز خصوصی تقریب منعقد ہوئی ۔

جس میں برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران ، بعض افریقن ممالک کے سفراء ، شہروں کے لارڈ میر صاحبان سمیت دو سو سے زائد مہمان شریک ہوے ۔ بیت فضل کا سنگ بنیاد 1924 میں جماعت احمدیہ کے اس وقت کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے رکھا تھا ۔ جبکہ تعمیر مکمل ہونے پر افتتاح چھ سو مہمانوں کی موجودگی میں سر عبدالقادر کے ہاتھوں تین اکتوبر 1924 کو سر انجام پایا ۔ اس وقت بیت فضل کی تعمیر پر 65 ہزار روپے یعنی 8,500 پونڈ خرچ ہوے جس کا بیشتر حصہ احمدی خواتین نے ادا کیا ۔ سو سالہ تقریبات تین اکتوبر کو سارا دن جاری رہیں ۔ صبح کے اوقات عبادات کے لئے مخصوص تھے جس میں بکثرت مرد و خواتین شامل ہوے اور مسجد میں نفل ادا کرتے رہے ۔ دو بجے علاقہ کے افراد کے لئے سٹریٹ پارٹی رکھی گئی تھی جس میں دو ہزار مرد حضرات اور نو سو خواتین شامل ہوے ۔

اور مسجد میں نفل ادا کرتے رہے ۔ دو بجے علاقہ کے افراد کے لئے سٹریٹ پارٹی رکھی گئی تھی جس میں دو ہزار مرد حضرات اور نو سو خواتین شامل ہوے ۔ چار بجے تک جاری رہنے والی سڑیٹ پارٹی میں ہر نسل ، قومیت اور مذاہب کے لوگ شامل ہوے ۔ اختتام پر رفیق احمد حیات امیر جماعت نے مختصر خطاب میں مسجد کی تاریخ بیان کی اور دعا کروائی ۔ سٹریٹ پارٹی کا اغاز بھی دعا سے ہوا تھا جو بیت فضل کے امام عطاء المجیب راشد نے کروائی تھی۔
چھ بجے شام خاص مہمانوں کے ساتھ استقبالیہ تقریب کا اہتمام بیت فضل کے بیرونی سبزہ زار پر کیا گیا تھا ۔ انے والے مہمانوں کو پہلے بیت فضل کی تاریخ پر مشتمل نمائش کا راؤنڈ کروایا جاتا ۔ یاد رہے کہ اس بیت فضل میں شاہ سعود ، شاہ فیصل ، قائد اعظم محمد علی جناح ، برصغیر کی اہم شخصیات کے علاوہ برطانیہ کے پرنس ایڈورڈ بھی تشریف لا چکے ہیں ۔ بیت فضل کو 2018 میں تاریخی عمارت
(Listed Status)
قرار دیا گیا اور مارچ 2026 میں ونڈزورتھ کونسل نے اسے گرین ہیریٹیج پلیک سے نوازا۔ تقریب سے جن چھ اہم شخصیات نے خطاب کیا ان میں دو ممبران پارلیمنٹ
Luke Taylor , Dame Siobhan Mc Donath
اور علاقہ کی مئیر Emmeline Owen’s بھی شامل تھیں ۔

Wandsworth مئیر نے اپنے خطاب میں عبادت کے لئے انے والوں اور انتظامیہ کے سو سالہ تعلق جو ہر انے والے وقت میں مظبوط تر ہوتا چلا گیا بڑے جذباتی رنگ میں ذکر کیا ۔ اس عبادت گاہ سے لوگوں اور دوسری تنظیموں کو جو فوائد حاصل ہوے ان کی مثالیں دے کر واقعات کا ذکر بہت اچھے پیراے میں کیا ۔ یاد رہے کہ بیت فضل سے فلاحی تنظیم “ ہومیونیٹی فرسٹ” احمدیہ ٹیلی ویزن MTA کا آغاز ہوا۔ اور بیت کی تعمیر پر ایک سو سال پورے ہونے پر جو قومی لیول پر پروگرام شروع کئے گئے ہیں ان میں دس ہزار مستحق افراد کو کھانا کھلانا ، دس ہزار گھنٹے سماجی خدمت کے لئے وقف کرنا اور دنیا میں امن کے قیام کے لئے عوام کو بیدار کرنے کی ضروت اور کوشش اجاگر کرنا جیسے پروگرام شامل ہیں ۔ تقریب کے آخری مقرر امام جماعت احمدیہ مرزا مسرور احمد تھے جنہوں نے ویڈیو لنک سے حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوے فرمایا کہ ایک سو سال سے بیت فضل عبادت ،امن،اور خدمت انسانیت کا مرکز ہے ۔ اس کی تاریخ انسانیت اور سچے مذہب اسلام کےاس اصول کی عکاسی کرتی چلی آ رہی ہے کہ سچا ایمان ، ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک، وطن سے وفاداری اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ عزت سے پیش انا ایمان کا اولین تقاضا ہے ۔ ویڈیو خطاب کے بعد دعا ہوئی اور بعد ازاں حاضرین کا کھانا پیش کیا گیا ۔

