واشنگٹن/تہران: امریکہ کے وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے اتوار کو کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں سفارتی اور فوجی، دونوں آپشنز پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے خطے میں تیسرے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بعد کشیدگی میں مزید اضافے کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا۔
سی بی ایس نیوز پر جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اگلے ماہ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کی متوقع آمد مڈ ٹرم انتخابات کے بعد کشیدگی بڑھانے کے کسی منصوبے کا اشارہ ہے، تو رائٹ نے صدر ٹرمپ کے مخصوص منصوبوں پر بات سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ہمیشہ ہنگامی حالات کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ہمیشہ مذاکرات بھی کر رہے ہوتے ہیں، اور ان کے دونوں راستے، سفارتی اور فوجی، اب بھی جاری ہیں۔
رائٹ نے کہا کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ایران خلیج کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملوں سے باز رہے گا، جو پہلے سے بڑھی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کو مزید اوپر لے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈیزل کی قیمتیں خاص طور پر متاثر ہوئی ہیں، جس میں چین کی جانب سے ریفائنڈ ایندھن کی برآمدات میں کمی نے شدت پیدا کی۔ جی-7 ممالک نے چار ماہ کے دوران اسٹریٹجک ذخائر سے 100 ملین بیرل ایندھن مارکیٹ میں لانے پر اتفاق کیا ہے، جس میں ابتدا میں ڈیزل پر زیادہ توجہ ہوگی۔ رائٹ کو توقع ہے کہ قیمتیں 6 ڈالر فی گیلن سے نیچے آ جائیں گی، تاہم اس کی کوئی حتمی مدت طے نہیں۔
دوسری جانب سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے مشاورتی کمانڈر علی فدوی نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے زمینی حملہ کیا تو ایران خطے میں تمام امریکی فوجی اڈوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنائے گا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی پر انہوں نے کہا کہ امریکیوں سے متعلق ہر مقام کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران کی فوجی پیداوار اب اس کے استعمال سے زیادہ ہے اور تہران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق قواعد تیار کر لیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے کبھی کسی مسلم ملک پر حملہ نہیں کیا بلکہ صرف ان کے اندر قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

